الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3067
´زمین جاگیر میں دینے کا بیان۔`
صخر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثقیف سے جہاد کیا (یعنی قلعہ طائف پر حملہ آور ہوئے) چنانچہ جب صخر رضی اللہ عنہ نے اسے سنا تو وہ چند سوار لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کے لیے نکلے تو دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہو چکے ہیں اور قلعہ فتح نہیں ہوا ہے، تو صخر رضی اللہ عنہ نے اس وقت اللہ سے عہد کیا کہ وہ قلعہ کو چھوڑ کر نہ جائیں گے جب تک کہ مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے آگے جھک نہ جائیں اور قلعہ خالی نہ کر دیں (پھر ایسا ہی ہوا) انہوں نے قلعہ کا محاصرہ اس وقت تک ختم نہیں کیا جب تک کہ مشرکین رسول۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الخراج والفيء والإمارة /حدیث: 3067]
فوائد ومسائل:
1۔
یہ روایت سندا ضعیف ہے۔
تاہم ا س میں جو مسئلہ بیان ہوا ہے۔
وہ دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔
یعنی کوئی حربی (جس سے جنگ ہو) مسلمان ہوجائے۔
تو اس کی جان مال اور آبرو محفوظ ہوجاتی ہے۔
2۔
کوئی حربی مقابلے سے بھاگ جائے اور بعد ازاں مسلمان ہوکر حاضر ہوجائے تو اس کا مال ضبط نہیں کیا جائے گا۔
(نیل الأوطار، باب أن الحربي إذا أسلم قبل القدرة علیه أحرز أمواله:13/8)
سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3067