تخریج: «أخرجه النسائي: لم أجده، وانظر حديث:4143، وأحمد:4 /128، 5 /317، 318، 326، وابن ماجه، الجهاد، حديث:2850، وابن حبان (ابن بلبان):11 /4855.»
تشریح:
1. اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خیانت دنیا و آخرت میں عار اور ذلت و رسوائی کا باعث ہے۔
2.ایک مسلمان مجاہد کو دیانت دار ہونا چاہیے۔
بددیانت اور خائن نہیں ہونا چاہیے۔
3. اس کا مقصد مال و متاع کا حصول نہیں بلکہ اس کا مقصود رضائے الٰہی اور اعلائے کلمۃاللہ کا حصول ہو اور جب تک وہ اس اصول کو اپنائے رکھے گا دنیا و آخرت میں کامیاب ہوگا ورنہ ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنے گی۔