تخریج: «أخرجه البخاري، التفسير، باب ﴿هذان خصمان اختصموا في ربهم﴾ ، حديث:4744، وأبوداود، الجهاد، حديث:2665.»
تشریح:
1. مذکورہ بالا حدیث میں جس مبارزت کا ذکر ہوا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ولید بن عتبہ کو قتل کر دیا اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے شیبہ بن ربیعہ کو قتل کر دیا لیکن حضرت عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ اور عتبہ بن ربیعہ کے درمیان ایک ایک وار کا تبادلہ ہوا اور اسی اثنا میں حضرت علی اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہما عتبہ پر پل پڑے اور دونوں نے اس کا کام تمام کر دیا اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ کو اٹھا لائے مگر ان کی ران کا زخم مسلسل بہتا رہا حتیٰ کہ وادی ٔصفراء میں مدینہ کی جانب واپسی کے موقع پر شہید ہوگئے۔
2. روایات اس بات کی بابت تو مختلف ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابل کون تھا‘ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مقابل کون اور حضرت عبیدہ رضی اللہ عنہ کے مقابل کون تھا؟ مگر اس پر سب کا اتفاق ہے کہ مبارزت میں جن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے جوہر شجاعت دکھائے وہ یہی تینوں تھے۔