الحمدللہ! صحيح ابن خزيمه پیش کر دی گئی ہے۔    


مسند الحميدي کل احادیث (1337)
حدیث نمبر سے تلاش:

مسند الحميدي
أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول روایات
1. حدیث نمبر 422
حدیث نمبر: 422
422 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: كُنْتُ أَرَي الرُّؤْيَا أُعْرَي مِنْهَا غَيْرَ أَنِّي لَا أُزَمَّلُ وَأَتَيْتُ أَبَا قَتَادَةَ فَشَكَوْتُ ذَلِكَ إِلَيْهِ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلُمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ فَلْيَتْفُلْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثًا، وَيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَي فَإِنَّهُ لَنْ يَضُرَّهُ»
422- ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بیان کرتے ہیں: میں ایسے خواب دیکھا کرتا تھا، جن سے میں ڈر جاتا تھا، البتہ میں ڈھانپ نہیں لیا جاتا تھا (یعنی اتنا زیادہ نہیں ڈرتا تھا کہ مجھے بخار ہوجائے) میں سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس بات کی شکایت کی، تو انہوں نے مجھے یہ بات بتائی کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے ہوتا ہے، تو جب کوئی شخص کوئی ایسا خواب دیکھے، جو اسے پسند نہ آئے، تو وہ اپنے بائیں طرف تین مرتبہ تھوک دے، اور جو خواب اس نے دیھا ہے اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانے تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 422]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «بدء الخلق» برقم: 3292،5747،6984،6986،6995،7005،7044، ومسلم فى «الرؤيا» برقم: 2261، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 768، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6058،6059، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5021، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2277، وابن ماجه في «‏‏‏‏سننه» برقم: 3909، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22961، والطيالسي فى «مسنده» ، برقم: 634»

2. حدیث نمبر 423
حدیث نمبر: 423
423 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ وَحَدَّثَنَاهُ أَرْبَعَةٌ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَي آلِ طَلْحَةَ، وَعَبْدُ رَبِّهِ، وَيَحْيَي ابْنَا سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّهُمْ سَمِعُوهُ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُهُ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ فَإِذَا حَلُمَ أَحَدُكُمْ حُلْمًا يَكْرَهُهُ فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ، وَلْيَسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ مَا رَأَي فَإِنَّهَا لَنْ تَضُرَّهُ»
423- سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: سچے خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتے ہیں اور پریشان خواب شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں، تو جب کوئی شخص کوئی ایسا پریشان خواب دیکھے جو اسے اچھا نہ لگے تو وہ اپنے بائیں جانب تین مرتبہ تھوک دے اور جو خواب اس نے دیکھا ہے اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے، تو وہ خواب اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 423]
تخریج الحدیث: «‏‏‏‏إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «بدء الخلق» برقم: 3292،5747،6984،6986،6995،7005،7044، ومسلم فى «الرؤيا» برقم: 2261، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 768، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 6058،6059، وأبو داود فى «سننه» برقم: 5021، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2277، وابن ماجه في «‏‏‏‏سننه» برقم: 3909، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22961، والطيالسي فى «مسنده» ، برقم: 634»

3. حدیث نمبر 424
حدیث نمبر: 424
424 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ وَلَمْ يَذْكُرْ أَوَّلَ الْحَدِيثِ كَمَا ذَكَرَهُ الزُّهْرِيُّ وَالزُّهْرِيُّ أَحْفَظُ مِنْهُمْ كُلِّهِمْ
424- مندرجہ بالا روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 424]
تخریج الحدیث: «انظر الحديثين السابقين»

4. حدیث نمبر 425
حدیث نمبر: 425
425 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَنَّهُمَا سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِذَا دَخَلَ أَحَدُكُمُ الْمَسْجِدَ فَلْيُصَلِ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسَ»
425- سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو، تو وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعت (ٹحیۃ المسجد) ادا کرلے۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 425]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «الصلاة» برقم: 444،1163، ومسلم فى «صلاة المسافرين وقصرها» برقم: 714، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 559، وابن خزيمة في «‏‏‏‏صحيحه» برقم: 1824،1825،1826،1827، 1829، وابن حبان في «صحيحه» برقم: 2495،2497،2498،2499»

5. حدیث نمبر 426
حدیث نمبر: 426
426 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ أَنَّهُمَا سَمِعَا عَامِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيِّ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ وَأُمَامَةُ بِنْتُ الْعَاصِ وَهِيَ ابْنَةُ زَيْنَبَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَي عَاتِقِهِ فَإِذَا رَكَعَ وَضَعَهَا فَإِذَا فَرَغَ مِنَ السُّجُودِ أَعَادَهَا»
426- سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کی امامت کرتے ہوئے دیکھا۔ سدیہ امامہ بنت ابوالعاص رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی صاحبزادی ہیں، انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گردن پر اٹھایا ہوا تھا، جب صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کھڑا کردیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے فارغ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ اٹھا لیا۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 426]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري برقم: 516،5996، ومسلم برقم: 543، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 589، وابن الجارود فى «المنتقى» برقم: 237، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 783،784،868، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1109،1110،2339، 2340، وأبو داود فى «سننه» برقم: 917،918،919،920»

6. حدیث نمبر 427
حدیث نمبر: 427
427 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا يَحْيَي بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: «نَفَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَ قَتِيلٍ قَتَلْتُهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ» قَالَ سُفْيَانُ وَالْحَدِيثُ طَوِيلٌ فَحَفِظْتُ مِنْهُ هَذَا
427- سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مقتول کا سامان مجھے عطیے کے طور پر دے دیا تھا، جسے غزوۂ حنین کے موقع پر قتیل کیا تھا۔
سفیان نامی راوی کہتے ہیں: یہ حدیث طویل ہے، لیکن مجھے صرف اس کا اتنا حصہ یاد ہے۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 427]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 2100،3142،4321،7170، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1751، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 1654، وابن الجارود فى «المنتقى» ، برقم: 1154، وابن حبان فى «صحيحه» 4805،4837، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2717، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1562، والدارمي فى «مسنده» ‏‏‏‏، برقم: 2528، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2837»

7. حدیث نمبر 428
حدیث نمبر: 428
428 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّي إِذَا كُنَّا بِالْقَاحَةِ وَمِنَّا الْمُحْرِمُ وَغَيْرُ الْمُحْرِمِ إِذْ بَصُرْتُ بِأصْحَابِي يَتَرَاءَونَ شَيْئًا فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَنَا بِحِمَارِ وَحْشٍ فَأَسْرَجْتُ فَرَسِي فَرَكِبْتُ فَأَخَذْتُ رُمْحِي فَسَقَطَ سَوْطِي، فَقُلْتُ لِأَصْحَابِي نَاوِلُونِي وَكَانُوا مُحْرِمِينَ، فَقَالُوا: لَا وَاللَّهِ لَا نُعِينُكَ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ فَتَنَاوَلْتُ سَوْطِي ثُمَّ أَتَيْتُ الْحِمَارَ مِنْ خَلْفِهِ وَهُوَ وَرَاءَ أَكَمَةٍ فَطَعَنْتُ بِرُمْحِي فَعَقَرْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ أَصْحَابِي فَقَالَ بَعْضُهُمْ كُلُوهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ لَا تَأْكُلُوهُ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَامَنَا فَحَرَّكْتُ فَرَسِي فَأَدْرَكْتُهُ فَقَالَ «هُوَ حَلَالٌ فَكُلُوهُ»
428- سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب تک قاحہ (نامی جگہ) پر پہنچے، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے احرام باندھا ہوا تھا، اور کچھ نے احرام نہیں باندھا ہوا تھا۔ اس دوران میں نظر اپنے ساتھیوں پر پڑی، تو وہ ایک دوسرے کو کوئی اشارہ کر رہے تھے۔ میں نے غور سے جائزہ لیا تو وہاں ایک نیل گائے تھی، میں نے اپنے گھوڑے پر زین رکھی اس پر سوار ہوا۔ میں نے اپنا نیزہ پکڑا تو میری چھڑی گرگئی، تو میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: تم مجھے اسے پکڑاؤ، وہ لوگ احرام باندھے ہوئے تھے، انہوں نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! ہم کسی بھی حوالے سے تمہاری مدد نہیں کریں گے تو میں نے اپنی چھڑی خود ہی پکڑلی پھر میں پیچھے کی طرف سے نیل گائے کے پاس آیا، وہ اس وقت ایک ٹیلے کے پیچھے تھی، میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے زخمی کردیا، میں اسے لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس آیا، تو ان میں سے بعض نے کہا: تم اسے کھالو، اور بعض نے کہا: تم لوگ اسے نہ کھاؤ۔ سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے آگے جارہے تھے، میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حلال ہے تم لوگ اسے کھالو۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 428]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري برقم: 1821، 1822، 1823، 1824، 2570، 2854، 2914، 4149، 5406، 5407، 5490، 5491 م، 5492، ومسلم برقم: 1196، ومالك فى "الموطأ"، برقم: 1278 وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2635، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3966، 3974، 3975، 3977 والنسائي فى «الكبرى» برقم: 3784، 3793، 3794، 3795، 4838، وأبو داود فى «سننه» ، برقم: 1852، والترمذي فى «‏‏‏‏جامعه» برقم: 847، 848، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1867، 1869، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3093، وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22962»

8. حدیث نمبر 429
حدیث نمبر: 429
429 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَي النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِنْ ضَرَبْتُ بِسَيْفِي هَذَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ حَتَّي أُقْتَلَ صَابِرًا مُحْتَسِبًا مُقْبِلًا غَيْرَ مُدْبِرٍ أَيُكَفِّرُ اللَّهُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ قَالَ «نَعَمْ» ثُمَّ سَكَتَ سَاعَةً ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ شَيْءٌ فَلَمَّا أَدْبَرَ الرَّجُلُ قَالَ:" تَعَالَ؛ هَذَا جِبْرِيلُ يَقُولُ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ عَلَيْكَ دَيْنٌ"
429- عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بارے میں کیا رائے، اگر میں اللہ کی راہ میں اپنی یہ تلوار چلاتا ہوں اور ثواب کی امید رکھتے ہوئے (دشمن کا) سامنا کرتے ہوئے، پیٹھ نہ پھیرتے ہوئے قتل ہوجاتا ہوں، تو کیا اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بخش دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے، یہاں تک کہ میں نے گمان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی حکم نازل ہورہا ے۔ جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم آگے آؤ! جبرائیل علیہ السلام کہہ رہے ہیں، اگر تم پر قرض ہوا تو وہ معاف نہیں ہوگا۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 429]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن وأخرجه مسلم برقم: 1885، ومالك فى «الموطأ» ، برقم: 1676، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4654، والنسائي فى «الكبرى» برقم: 4349، 4350، 4351، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1712، والدارمي فى «مسنده» ، برقم: 2456، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11074،17898، 18018 وأحمد فى «مسنده» ، برقم: 22978»

9. حدیث نمبر 430
حدیث نمبر: 430
430 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا عَمْرٌو، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
430- یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 430]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات وانظر الحديث السابق»

10. حدیث نمبر 431
حدیث نمبر: 431
431 - حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ قَالَ: ثنا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَي بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّي تَرَوْنِي»
431- عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب نماز کے لئے اقامت کہی جائے، تو لوگ اس وقت تک کھڑے نہ ہو، جب تک مجھے دیکھ نہیں لیتے۔
[مسند الحميدي/أَحَادِيثُ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ/حدیث: 431]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح وأخرجه البخاري برقم: 635،637،638،909 ومسلم برقم: 603، 604، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1526،1644، وابن حبان فى «‏‏‏‏صحيحه» برقم: 1755، 2147، 2222، 2223 والنسائي فى «الكبرى» برقم: 867، 1663، وأبو داود فى «سننه» برقم: 539، والترمذي فى «جامعه» ‏‏‏‏ برقم: 592، والدارمي فى «‏‏‏‏مسنده» ‏‏‏‏، برقم: 1296، 1297»


1    2    Next