سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: ”جس نے چوسر کھیلا (یا شطرنج) تو اس نے نا فرمانی کی اللہ کی اور اس کے رسول کی۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1747]
تخریج الحدیث: «مرفوع حسن، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 4938، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3762، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5872، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 160، 161، 162، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21011، 21012، وأحمد فى «مسنده» برقم: 19780، فواد عبدالباقي نمبر: 52 - كِتَابُ الرُّؤْيَا-ح: 6»
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے گھر میں کچھ لوگ رہا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ان کے پاس شطرنج (یا چوسر) ہے، تو کہلا بھیجا کہ شطرنج کو تم دور کر دو میرے گھر سے، نہیں تو میں تم کو اپنے گھر سے نکال دوں گا، اور برا جانا اس کو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1748]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب اپنے گھر والوں میں سے کسی کو شطرنج (یا چوسر) کھیلتے دیکھتے تو اس کو مارتے اور شطرنج کو توڑ ڈالتے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1749]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه بخاري فى «الادب المفرد» برقم: 1273، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21019، 21020، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 6506، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 26675، فواد عبدالباقي نمبر: 52 - كِتَابُ الرُّؤْيَا-ح: 7»
کہا یحییٰ نے: سنا میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے: شطرنج کھیلنا بہتر نہیں ہے، نہ اس میں کوئی فائدہ و بھلائی ہے، اور مکروہ جانتے تھے اس کو۔ اور سنا میں نے امام مالک رحمہ اللہ سے: کہتے تھے: شطرنج کھیلنا اور لغو بیہودہ کھیل سب مکروہ ہیں، اور پڑھتے تھے اس آیت کو «﴿فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ﴾ [يونس: 32] »”پس کیا ہے بعد حق کے سوائے گمراہی کے۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1749B1]