امام مالک رحمہ اللہ کو پہنچا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہمارے بازار میں کوئی احتکار نہ کرے، جن لوگوں کے ہاتھ میں حاجت سے زیادہ روپیہ ہے وہ کسی ایک غلہ کو جو ہمارے ملک میں آئے خرید کر احتکار نہ کریں، اور جو شخص تکلیف اٹھا کر ہمارے ملک میں غلہ لائے گرمی یا جاڑے میں تو وہ مہمان ہے عمر کا، جس طرح اللہ کو منظور ہو بیچے، اور جس طرح اللہ کو منظور ہو رکھ چھوڑے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1358]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11152، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14900، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 56»
سعید بن مسیّب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہو کر گزرے اور وہ انگور (منقیٰ) بیچ رہے تھے بازار میں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یا تو تم نرخ بڑھا دو یا ہمارے بازار سے اٹھ جاؤ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 1359]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 11146، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 14905، 14906، فواد عبدالباقي نمبر: 31 - كِتَابُ الْبُيُوعِ-ح: 57»