ابن شہاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ثقفی شخص سے فرمایا جو مسلمان ہوا تھا اور اس کی دس بیبیاں تھیں: ”چار کو رکھ لے اور باقی کو چھوڑ دے۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1215]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح لغيرہ، وأخرجه ابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4156، 4157، 4158، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2795، 2796، 2797، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1128، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1953، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1868، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13957، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4699، 4721، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 76»
ابن شہاب نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیّب اور حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود اور سلیمان بن یسار سے سنا، سب کہتے تھے کہ ہم نے سنا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے: جس عورت کو اس کا خاوند ایک طلاق یا دو طلاق دے، پھر چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی عدت گزر جائے، اور دوسرے خاوند سے نکاح کرے، پھر وہ دوسرا خاوند مر جائے یا طلاق دے دے، پھر اس سے پہلا خاوند نکاح کرے تو اس کو بقیہ ایک طلاق کا اختیار رہے گا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1216]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15135، 15170، 15173، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4492، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1525، 1526، 1527، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11149، 11150، 11151، 11152، 11153، 11155، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18688، 18689، 18691، 18695، 18696، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 77»
حضرت ثابت بن احنف نے عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب کی اُم ولد سے نکاح کیا۔ ان کو بلایا عبداللہ نے جو عبدالرحمٰن بن زید بن خطاب کے بیٹے تھے۔ ثابت نے کہا: میں اُن کے پاس گیا، دیکھا تو کوڑے رکھے ہوئے ہیں اور لوہے کی دو بیڑیاں رکھی ہوئیں ہیں، اور دو غلام حاضر ہیں، عبداللہ نے مجھ سے کہا: تو اس اُم ولد کو طلاق دے دے نہیں تو میں تیرے ساتھ ایسا کروں گا۔ میں نے کہا: ایسا ہے تو میں نے اس کو ہزار طلاق دیں۔ جب میں ان کے پاس سے گزرا تو مکّہ کے راستے میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مجھ کو ملے، میں نے ان سے ذکر کیا، وہ غصہ ہوئے اور کہا: یہ طلاق نہیں ہے، اور وہ اُم ولد تیرے اوپر حرام نہیں ہے، تو اپنے گھر میں جا۔ ثابت نے کہا: مجھ کو ان سے تسکین نہ ہوئی یہاں تک کہ میں مکّہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور وہ ان دنوں میں مکّہ کے حاکم تھے، میں نے ان سے یہ قصہ بیان کیا اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جو کہا تھا وہ بھی ذکر کیا۔ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک وہ عورت تجھ پر حرام نہیں ہوئی، تو اپنی بی بی کے پاس جا۔ جابر بن اسود زہری جو مدینہ کے حاکم تھے، ان کو خط لکھا کہ عبداللہ بن عبدالرحمٰن کو سزا دو اور ان کی بی بی کو ان کے حوالے کر دو۔ ثابت کہتے ہیں: میں مدینہ آیا تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی بی بی صفیہ نے میری عورت کو بنا سنوار کر میرے پاس بھیجا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی اطلاع سے۔ پھر میں نے ولیمہ کی دعوت کی اور سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بلایا، وہ دعوت میں آئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1217]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15105، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4474، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11410، 11411، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 78»
حضرت عبداللہ بن دینار نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو سنا، یوں پڑھتے تھے: «﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [الطلاق: 1] »”اے نبی! جب تم طلاق دو اپنی عورتوں کو تو طلاق دو ان کی عدت کے استقبال میں۔“ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: مطلب اس کا یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1218]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مسلم فى «صحيحه» برقم: 1471، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 4263، 4264، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3008، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14903، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4411، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5629، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 79»
حضرت عروہ بن زبیر کہتے تھے: پہلے یہ دستور تھا کہ مرد اپنی عورت کو طلاق دیتا، جب عدت گزرنے لگتی تو رجعت کر لیتا، ایسا ہی ہمیشہ کیا کرتا اگرچہ ہزار مرتبہ طلاق دے۔ ایک شخص نے اپنی عورت کے ساتھ ایسا ہی کیا، اس کو طلاق دی جب عدت گزرنے لگی تو رجعت کر لی، پھر طلاق دے دی اور کہا: قسم اللہ کی! نہ میں تجھے اپنے ساتھ ملاؤں گا اور نہ کسی اور سے ملنے دوں گا۔ جب اللہ تعالی نے یہ آیت اتاری: ”طلاق دو بار ہے، پھر یا رکھ لو دستور کے موافق یا رخصت کر دو دستور کے موافق۔“ اس دن سے لوگوں نے نئے سرے سے طلاق شروع کی، جنہوں نے طلاق دی تھی اور جنہوں نے نہ دی تھی، سب نے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1219]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، وأخرجه الترمذي فى «جامعه» برقم: 1192، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14951، 15591، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4425، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19562، والشافعي فى «الاُم» برقم: 242/5، والشافعي فى «المسنده» برقم: 68/2، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 80»
حضرت ثور بن زید دیلی سے روایت ہے کہ اگلے زمانہ میں لوگ اپنی عورتوں کو طلاق دیتے تھے پھر رجعت کر لیتے تھے اور اُن کے رکھنے کی نیت نہ ہوتی تھی تاکہ ان کی عدت بڑھ جائے اور ان کو ضرر پہنچے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ”مت رکھو عورتوں کو ضرر پہنچانے کے لیے، جو ایسا کرے گا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا۔“ اللہ تعالیٰ لوگوں کو یہ نصیحت کرتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1220]
تخریج الحدیث: «مرفوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 81»
حضرت سعید بن مسیّب اور سلیمان بن یسار سے سوال ہوا کہ جو شخص نشے میں مست ہو اور طلاق دے اس کا کیا حکم ہے؟ دونوں نے کہا کہ طلاق پڑ جائے گی اور وہ نشے میں مار ڈالے کسی کو تو مارا جائے گا۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: ہمارے نزدیک یہی حکم ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1221]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، و أخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15112، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12303، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1106، 1107، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17955، 17957، 17961، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 82»
حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے: جب خاوند جورو کو نان نفقہ نہ دے سکے تو تفریق کر دی جائے گی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اپنے شہر کے عالموں کو اسی پر پایا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1222]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15707، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 4750، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12356، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 2022، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19006، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3740، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 82ق»