سعید بن مسیّب کہتے تھے: جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے، پھر اس سے جماع نہ کر سکے، اس کو ایک برس کی مہلت دی جائے، اس عرصہ میں اگر جماع کرے گا تو بہتر، نہیں تو تفریق کر دی جائے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1213]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه الدارقطني فى «سننه» برقم: 3813، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16492، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14289، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10720، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 74»
امام مالک رحمہ اللہ نے ابن شہاب سے پوچھا کہ کب سے ایک برس کی مہلت دی جائے گی؟ جس روز سے خلوت ہوئی؟ یا جس روز سے مقدمہ پیش ہوا حکم کے سامنے؟ انہوں نے کہا: جس روز مقدمہ پیش ہوا اس روز سے دعوت دی جائے گی۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص اپنی عورت سے جماع کرچکا، پھر کسی وجہ سے عاجز ہو گیا اس کو مہلت دینے کی ضرورت نہیں، نہ تفریق ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1214]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14293، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16489، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 75»