موطا امام مالك رواية يحييٰ
كِتَابُ الطَّلَاقِ
کتاب: طلاق کے بیان میں
1. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْبَتَّةِ
1. طلاق بتّہ یعنی تین طلاق کے بیان میں
حدیث نمبر: 1132
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي مِائَةَ تَطْلِيقَةٍ، فَمَاذَا تَرَى عَلَيَّ؟ فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ: " طَلُقَتْ مِنْكَ لِثَلَاثٍ، وَسَبْعٌ وَتِسْعُونَ اتَّخَذْتَ بِهَا آيَاتِ اللَّهِ هُزُوًا"
ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ میں نے اپنی عورت کو سو طلاق دیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ وہ تین طلاق میں تجھ سے بائن ہو گئی، اور ستانوے (97) طلاق سے تو نے ٹھٹھا کیا اللہ کی آیتوں سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1132]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14945، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11353، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17797، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 1»

حدیث نمبر: 1133
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِكٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي ثَمَانِيَ تَطْلِيقَاتٍ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ:" فَمَاذَا قِيلَ لَكَ؟" قَالَ: قِيلَ لِي: إِنَّهَا قَدْ بَانَتْ مِنِّي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ:" صَدَقُوا، مَنْ طَلَّقَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ، فَقَدْ بَيَّنَ اللَّهُ لَهُ، وَمَنْ لَبَسَ عَلَى نَفْسِهِ لَبْسًا، جَعَلْنَا لَبْسَهُ مُلْصَقًا بِهِ، لَا تَلْبِسُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ، وَنَتَحَمَّلُهُ عَنْكُمْ، هُوَ كَمَا يَقُولُونَ"
ایک شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی عورت کو دو سو طلاقیں دیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: لوگوں نے تجھ سے کیا کہا؟ وہ بولا: مجھ سے یہ کہا کہ تیری عورت تجھ سے بائن ہوگئی۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: سچ ہے، جو شخص اللہ کے حکم کے موافق طلاق دے گا تو اللہ نے اس کی صورت بیان کر دی، اور جو گڑبڑ کرے گا تاکہ ہم کو مصیبت اٹھانا پڑے، وہ لوگ سچ کہتے ہیں تیری عورت تجھ سے جدا ہوگئی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1133]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14962، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11342، 11343، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17805، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 2»

حدیث نمبر: 1134
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، قَالَ لَهُ:" الْبَتَّةُ، مَا يَقُولُ النَّاسُ فِيهَا؟" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَقُلْتُ لَهُ: كَانَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ يَجْعَلُهَا وَاحِدَةً، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ : " لَوْ كَانَ الطَّلَاقُ أَلْفًا، مَا أَبْقَتِ الْبَتَّةُ مِنْهَا شَيْئًا، مَنْ قَالَ الْبَتَّةَ، فَقَدْ رَمَى الْغَايَةَ الْقُصْوَى"
حضرت ابوبکر بن حزم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا کہ طلاق بتہ میں لوگ کیا کہتے ہیں؟ ابوبکر نے کہا: ابان بن عثمان اس کو ایک طلاق سمجھتے تھے، عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے کہا: اگر طلاق ایک ہزار تک درست ہوتی تو بتہ اس میں سے کچھ باقی نہ رکھتا، جس نے بتہ کہا وہ انتہا کو پہنچ گیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 11185، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 1673، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18452، 18453، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 3»

حدیث نمبر: 1135
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ" كَانَ يَقْضِي فِي الَّذِي يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، أَنَّهَا ثَلَاثُ تَطْلِيقَاتٍ" . قَالَ مَالِك: وَهَذَا أَحَبُّ مَا سَمِعْتُ إِلَيَّ فِي ذَلِكَ
ابن شہاب سے روایت ہے کہ مروان طلاق بتہ میں تین طلاق کا حکم کرتا تھا۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ روایت مجھے بہت پسند ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 1135]
تخریج الحدیث: «مقطوع ضعيف، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 29 - كِتَابُ الطَّلَاقِ-ح: 4»