سیدنا ابوقتادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ ساتھ تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے، سو ایک راستے میں مکہ کے پیچھے رہ گئے اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ جو احرام باندھے تھے۔ لیکن سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ احرام نہیں باندھے تھے، انہوں نے ایک گورخر دیکھا تو اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور ساتھیوں سے کوڑا مانگا، انہوں نے انکار کیا، پھر برچھا مانگا، انہوں نے انکار کیا۔ آخر انہوں نے خود برچھا لے کر حملہ کیا گورخر پر اور قتل کیا اس کو اور بعض صحابہ نے وہ گوشت کھایا اور بعضوں نے انکار کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ ایک کھانا تھا جو کھلایا تم کو اللہ جل جلالہُ نے۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 777]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1821، 1822، 1823، 1824، 2570، 2854، 2914، 4149، 5406، 5407، 5490، 5491 م، 5492، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1196، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2635، 2636، 2642، 2643، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3966، 3974، 3975، 3977، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2818، وأبو داود فى «سننه» برقم: 1852، والترمذي فى «جامعه» برقم: 847، 848، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1867، 1869، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3093، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9955، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22962، والحميدي فى «مسنده» برقم: 428، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8337، 8338، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14678، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 76»
حضرت عروہ بن زبیر سے روایت ہے کہ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ناشتہ کرتے تھے ہرن کے بھونے ہوئے گوشت کا اور وہ محرم ہوتے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کو قدید کہتے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 778]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10026، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1279، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8348، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14682، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 77»
عطاء بن یسار نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث گورخر مارنے کی، ویسی ہی روایت کی جیسی اوپر بیان ہوئی، مگر اس حدیث میں اتنا زیادہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا اس گوشت میں سے کچھ تمہارے پاس باقی ہے۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 779]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم:5491، والترمذي فى «جامعه» برقم: 848، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22936، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 78»
سیدنا زید بن کعب بہزی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے مکہ کے قصد سے احرام باندھے ہوئے، جب روحاء میں پہنچے (روحاء ایک موضع ہے درمیان میں مکہ اور مدینہ کے) تو ایک گورخر زخمی دیکھا، تو بیان کیا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو پڑا رہنے دو، اس کا مالک آ جائے گا۔“ اتنے میں سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ آئے، وہی اس کے مالک تھے، وہ بولے: اے رسول اللہ! اس گورخر کے آپ مختار ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو حکم کیا، انہوں نے اس کا گوشت تقسیم کیا سب ساتھیوں کو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، جب اثابہ میں پہنچے درمیان میں رُوَیثہ اور عرج کے (اثابہ اور رُوَیثہ اور عرج سب مقاموں کے نام ہیں) تو دیکھا کہ ایک ہرن اپنا سر جھکائے ہوئے سائے میں کھڑا ہے اور ایک تیر اس کو لگا ہوا ہے، تو کہا سیدنا بہزی رضی اللہ عنہ نے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کھڑا رہے اس کے پاس تاکہ کوئی اس کو نہ چھیڑے یہاں تک کہ لوگ آگے بڑھ جائیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 780]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه النسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 2820، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5111، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 3786، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3092، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10021، 12078، 18982، 18983، 19465، وأحمد فى «مسنده» برقم: 15689، 15985، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1278، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8339، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 3806، 3807، وأخرجه الطبراني فى "الكبير"، 5283، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 79»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ جب آئے بحرین سے تو جب پہنچے ربذہ میں، چند سوار ملے عراق کے احرام باندھے ہوئے۔ تو پوچھا انہوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے شکار کے گوشت کا حال جو ربذہ والوں کے پاس تھا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کو کھانے کی اجازت دی۔ پھر کہا کہ مجھ کو شک ہوا اس حکم میں تو جب آیا میں مدینہ کو، ذکر کیا میں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم نے کیا حکم دیا اُن کو؟ میں نے کہا کہ میں نے حکم دیا کھانے کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تم ان کو کچھ اور حکم دیتے تو میں تمہارے ساتھ ایسا کرتا، یعنی ڈرانے لگے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 781]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10022، 10024، 19051، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8342، 8344، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14681، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 3815، 3816، 3817، 3818، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 80»
حضرت سالم بن عبداللہ نے سنا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے تھے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سےکہ مجھ کو ملے کچھ لوگ احرام باندھے ہوئے ربذہ میں، تو پوچھا انہوں نے شکار کے گوشت کی بابت جو حلال لوگوں کے پاس موجود ہو، وہ کھاتے ہوں اس کو؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اُن کو کھانے کی اجازت دی۔ کہا سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے: جب میں آیا مدینہ کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس، میں نے اُن سے بیان کیا، انہوں نے کہا: تو نے کیا فتویٰ دیا؟ میں نے کہا: میں نے فتویٰ دیا کھانے کا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو اور کسی بات کا فتویٰ دیتا تو میں تجھے سزا دیتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 782]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10022، 10024، 19051، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8342، 8344، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 14681، والطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 3815، 3816، 3817، 3818، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 81»
سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ جب آئے شام سے تو چند سوار ان کے ساتھ تھے احرام باندھے ہوئے راستے میں۔ انہوں نے شکار کا گوشت دیکھا تو سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ نے ان کو کھانے کی اجازت دی، جب مدینہ میں آئے تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: تمہیں کس نے فتویٰ دیا؟ بولے: سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے کعب کو تمہارے اوپر حاکم کیا یہاں تک کہ تم لوٹو۔ پھر ایک روز مکہ کی راہ میں ٹڈیوں کا جھنڈ ملا، سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے فتویٰ دیا کہ پکڑ کر کھائیں، جب وہ لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، ان سے بیان کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے پوچھا: تم نے یہ فتویٰ کیسے دیا؟ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ٹڈی دریا کا شکار ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بولے: کیونکر؟ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ بولے: اے امیر المؤمنین! قسم اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے! کہ ٹڈی ایک مچھلی کی چھینک سے نکلتی ہے جو ہر سال میں دو بار چھینکتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 783]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 1855، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 10025، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 8350، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 25069، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 82»
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ راہ میں جو گوشت شکار کا ملے محرم اس کو خریدے یا نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ جو شکار حجاج کے واسطے کیا جائے تو میں اس کو مکروہ جانتا ہوں، البتہ اگر محرم کے واسطے شکار نہ کیا ہو لیکن اس کو مل جائے تو اس کے خریدنے میں کچھ حرج نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 783B1]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کسی شخص نے احرام باندھا اور اس کے پاس شکار کا جانور ہے جو اس نے پکڑا ہے، یا مول لیا ہے، تو کچھ ضروری نہیں کہ اس کو چھوڑ دے، بلکہ اس کو اپنے گھر میں رکھ جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 783B2]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: مچھلیوں کا شکار دریا اور ندیوں اور تالابوں میں محرم کے واسطے حلال ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 783B3]