موطا امام مالك رواية يحييٰ
كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ
کتاب: اوقات نماز کے بیان میں
5. بَابُ جَامِعِ الْوُقُوْتِ
5. وقتوں کا بیان
حدیث نمبر: 20
حَدَّثَنِي يَحْيَى، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الَّذِي تَفُوتُهُ صَلَاةُ الْعَصْرِ كَأَنَّمَا وُتِرَ أَهْلَهُ وَمَالَهُ"
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کی عصر کی نماز قضا ہو گئی تو گویا لٹ گیا اس کا گھر بار۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 552، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 626، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1469، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 477، 478، 479، 511، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 362، 364، 1510، وأبو داود فى «سننه» برقم: 414، والترمذي فى «جامعه» برقم: 175، والدارمي فى «مسنده» برقم: 1266، 1267، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 685، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 2126، 2127، 2129، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4634، 4711، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 5447، 5453، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 2074، 2075، 2191، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 3461، 3462، 3463، شركة الحروف نمبر: 18، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 21»

حدیث نمبر: 21
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْصَرَفَ مِنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ، فَلَقِيَ رَجُلًا لَمْ يَشْهَدِ الْعَصْرَ، فَقَالَ عُمَرُ : " مَا حَبَسَكَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ؟" فَذَكَرَ لَهُ الرَّجُلُ عُذْرًا، فَقَالَ عُمَرُ:" طَفَّفْتَ"
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: وَيُقَالُ لِكُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَتَطْفِيفٌ
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ عصر کی نماز پڑھ کر لوٹے، ایک شخص سے ملاقات ہوئی جو عصر کی نماز میں نہ تھا، آپ نے پوچھا: کس وجہ سے تم رک گئے جماعت میں آنے سے؟ اس نے کچھ عذر بیان کیا، تب فرمایا آپ نے: «طَفَّفْتَ» ۔
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: «طَفَّفْتَ» «تَطْفِيْفٔ» سے ہے۔ عرب لوگ کہا کرتے ہیں: «لِكُلِّ شَيْءٍ وَفَاءٌ وَ تَطْفِيْفٌ» ۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه التاريخ الكبير برقم: 429/8، شركة الحروف نمبر: 19، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 22» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا کہ یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں انقطاع ہے، یحیٰی بن سعید نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو نہیں پایا۔

حدیث نمبر: 22
وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمُصَلِّيَ لَيُصَلِّي الصَّلَاةَ وَمَا فَاتَهُ وَقْتُهَا، وَلَمَا فَاتَهُ مِنْ وَقْتِهَا أَعْظَمُ، أَوْ أَفْضَلُ مِنْ أَهْلِهِ وَمَالِهِ" .
حضرت یحیی بن سعید رحمہ اللہ کہتے تھے کہ نمازی کبھی نماز پڑھتا ہے اور وقت جاتا نہیں رہتا، لیکن جس قدر وقت گزر گیا وہ اچھا اور بہتر تھا اس کے گھر بار سے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 22]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، التمهيد لابن عبدالبر: 24/75، 4/342، شركة الحروف نمبر: 20، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 23» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔

حدیث نمبر: 22B1
قَالَ يَحْيَى: قَالَ مَالِك: مَنْ أَدْرَكَ الْوَقْتَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ، فَأَخَّرَ الصَّلَاةَ سَاهِيًا أَوْ نَاسِيًا حَتَّى قَدِمَ عَلَى أَهْلِهِ، أَنَّهُ إِنْ كَانَ قَدِمَ عَلَى أَهْلِهِ وَهُوَ فِي الْوَقْتِ فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُقِيمِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ قَدِمَ وَقَدْ ذَهَبَ الْوَقْتُ فَلْيُصَلِّ صَلَاةَ الْمُسَافِرِ، لِأَنَّهُ إِنَّمَا يَقْضِي مِثْلَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِ.
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: اگر کوئی شخص سفر میں ہو اور نماز کا وقت آ جائے، پھر وہ شخص بھول بھٹک کر نماز میں دیر کرے یہاں تک کہ اپنے گھر بار میں آ جائے، اور وقت باقی ہو تو وہ نماز کو پورا پڑھے مثل مقیم کے، قصر نہ کرے، اور جو وقت گزر گیا ہو تو قصر سے پڑھے، کیونکہ اب تو وہ نماز کو قضا پڑھے گا اور قضا ویسی ہی پڑھی جائے گی جیسے واجب ہوئی تھی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 22B1]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 20، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 23»

حدیث نمبر: 22B2
قَالَ مَالِك: وَهَذَا الْأَمْرُ هُوَ الَّذِي أَدْرَكْتُ عَلَيْهِ النَّاسَ، وَأَهْلَ الْعِلْمِ بِبَلَدِنَا.
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہم نے اپنے شہر والوں کو اور اپنے شہر کے عالموں کو اسی حکم پر پایا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 22B2]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 20، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 23»

حدیث نمبر: 22B3
وَقَالَ مَالِك: الشَّفَقُ الْحُمْرَةُ الَّتِي فِي الْمَغْرِبِ، فَإِذَا ذَهَبَتِ الْحُمْرَةُ فَقَدْ وَجَبَتْ صَلَاةُ الْعِشَاءِ، وَخَرَجْتَ مِنْ وَقْتِ الْمَغْرِبِ
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: شفق سرخی کو کہتے ہیں جو پچھّم کی جانب ہوتی ہے، تو جب سرخی جاتی رہی نمازِ عشاء کا وقت آ جائے گا اور مغرب کا وقت گزر جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 22B3]
تخریج الحدیث: «شركة الحروف نمبر: 20، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 23»

حدیث نمبر: 23
وَحَدَّثَنِي، عَنْ وَحَدَّثَنِي، عَنْ مَالِك، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ " أُغْمِيَ عَلَيْهِ فَذَهَبَ عَقْلُهُ فَلَمْ يَقْضِ الصَّلَاةَ" .
قَالَ مَالِك: وَذَلِكَ فِيمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَنَّ الْوَقْتَ قَدْ ذَهَبَ فَأَمَّا مَنْ أَفَاقَ فِي الْوَقْتِ فَإِنَّهُ يُصَلِّي
حضرت نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بے ہوش ہوگئے، ان کی عقل جاتی رہی، پھر انہوں نے نماز کی قضا نہ پڑھی۔
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہماری دانست میں وقت نماز کا جاتا رہا ہو گا، کیونکہ جو شخص ہوش میں آجائے اور وقت باقی ہو تو وہ نماز پڑھ لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ وُقُوْتِ الصَّلَاةِ/حدیث: 23]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه مالك فى «الموطأ» برقم: 23، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1850، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1861، 1862، 1863، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4152، 4153، 4158، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6648، 6649، 6662، شركة الحروف نمبر: 21، فواد عبدالباقي نمبر: 1 - كِتَابُ وُقُوتِ الصَّلَاةِ-ح: 24» شیخ سلیم ہلالی اور شیخ احمد علی سلیمان نے کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے۔