علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سفر کے خرچ اور سواری کا مالک ہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچا سکے اور وہ حج نہ کرے تو اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہو کر مرے یا عیسائی ہو کر، اور یہ اس لیے کہ اللہ نے اپنی کتاب (قرآن) میں فرمایا ہے: ”اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کرنا لوگوں پر فرض ہے جو اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں۔“
امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے ۱؎، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس کی سند میں کلام ہے۔ ہلال بن عبداللہ مجہول راوی ہیں۔ اور حارث حدیث میں ضعیف گردانے جاتے ہیں۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 812]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (سند میں ہلال اور حارث اعور دونوں ضعیف راوی ہیں)»
وضاحت: ۱؎: ضعیف ہے، مگر عمر رضی الله عنہ کے اپنے قول سے صحیح ہے، اور ایسی بات کوئی صحابی اپنی رائے سے نہیں کہہ سکتا۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (2521) ، التعليق الرغيب (2 / 134) // ضعيف الجامع الصغير (5860) //
قال الشيخ زبير على زئي: (812 ) ضعيف ھلال بن عبدالله : متروك (تق : 7343) وللحديث شواھد ضعيفة