عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد سکھاتے جیسے آپ ہمیں قرآن سکھاتے تھے اور فرماتے: «التحيات المباركات الصلوات الطيبات لله سلام عليك أيها النبي ورحمة الله وبركاته سلام علينا وعلى عباد الله الصالحين أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا رسول الله» ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن غریب صحیح ہے، ۲- اور عبدالرحمٰن بن حمید رواسی نے بھی یہ حدیث ابوالزبیر سے لیث بن سعد کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، ۳- اور ایمن بن نابل مکی نے یہ حدیث ابو الزبیر سے جابر رضی الله عنہ کی حدیث سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ۴- امام شافعی تشہد کے سلسلے میں ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کی طرف گئے ہیں ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 290]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الصلاة 16 (403)، سنن ابی داود/ الصلاة 182 (974)، سنن النسائی/التطبیق 103 (1175)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (900)، (تحفة الأشراف: 5750)، مسند احمد (1/292) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دونوں طرح کا تشہد ثابت ہے، دونوں میں سے چاہے جو بھی پڑھے۔