عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی جنگ اور فتح قسطنطنیہ کے درمیان چھ سال کی مدت ہو گی اور ساتویں سال میں مسیح دجال کا ظہور ہو گا ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ عیسیٰ کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجہ/الفتن 35 (5194)، (تحفة الأشراف: 5194)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/189) (ضعیف)» (سند میں بقیہ بن ولید ضعیف اورابن ابی بلال لین الحدیث ہیں)
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اوپر والی حدیث کی معارض ہے، اور دونوں ضعیف ہیں، دونوں میں تطبیق اس طرح سے دی جاتی ہے کہ بڑی جنگ کی ابتداء و انتہاء کے درمیان چھ سال کا وقفہ ہو گا، اور بڑی جنگ کا اختتام اور قسطنطنیہ کی فتح اور مسیح دجال کا ظہور یہ تینوں قریب قریب واقع ہوں گے، یعنی سات مہینے کے عرصہ میں واقع ہو جائیں گے، ایک دوسرا جواب وہ ہے جو ابوداود نے دیا ہے کہ دوسری حدیث سند کے اعتبار سے زیادہ صحیح ہے لہٰذا پہلی حدیث اس کے معارض نہیں ہو سکتی کیونکہ تعارض کے لئے یکساں وجوہ ضروری ہے۔
Narrated Abdullah ibn Busr: The Prophet ﷺ said: The time between the great war and the conquest of the city (Constantinople) will be six years, and the Dajjal (Antichrist) will come forth in the seventh. Abu Dawud said: This is sounder than the tradition narrated by Isa (bin Yunus)
USC-MSA web (English) Reference: Book 38 , Number 4283
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف إسناده ضعيف ابن ماجه (4093) عبداﷲبن أبي بلال لم يوثقه غير ابن حبان فھو: مجهول كما في التحرير (3240) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بڑی جنگ، قسطنطنیہ کی فتح اور دجال کا نکلنا تینوں چیزیں سات مہینے کے اندر ہوں گی“۔
تخریج الحدیث: «سنن الترمذی/الفتن 58 (2238)، سنن ابن ماجہ/الفتن 35 (4092)، (تحفة الأشراف: 11328)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/234) (ضعیف)» (ابوبکر بن ابی مریم اور ولید بن سفیان ضعیف اور یزید سکونی لین الحدیث ہیں)
Narrated Muadh ibn Jabal: The Prophet ﷺ said: The greatest war, the conquest of Constantinople and the coming forth of the Dajjal (Antichrist) will take place within a period of seven months.
USC-MSA web (English) Reference: Book 38 , Number 4282
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف إسناده ضعيف ترمذي (2238) ابن ماجه (4092) أبو بكر بن أبي مريم: ضعيف وكان قد سرق بيته فاختلط (تقريب التهذيب: 7974) وشيخه وليد بن سفيان الغساني: مجهول (تق: 7425) و يزيد بن قطيب مقبول (تقريب التهذيب: 7764) أي مجهول الحال انوار الصحيفه، صفحه نمبر 153