سوانح حیات:
تعلیمی سفر:
پھر علم حدیث کی نشر و اشاعت کی طرف متوجہ ہوئے اور مطالعہ، قرأت، تدریس و تصنیف اور افتا کی صورت میں اس پر جمے رہے، اور متعدد جگہوں میں تفسیر، حدیث اور فقہ کی تدریس کی، وعظ و نصیحت میں مشغول رہے اور ازہر ”جامع مسجد عمرو“ اور دیگر مقامات پر خطبہ دیتے رہے، نیز اپنے سینے میں محفوظ خزینے کی املا کروانے کا سلسلہ جاری کیا، چنانچہ بڑے بڑے فضلاء اور نامور علماء آپ سے فیض یاب ہوئے اور آپ کے علمی چشمے سے سیراب ہونے کے لیے آپ کے پاس آتے رہے۔