الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: صلاۃ کے احکام و مسائل
The Book of the Prayer
5. بَابُ : وَقْتِ صَلاَةِ الْعَصْرِ
5. باب: نماز عصر کا وقت۔
Chapter: The Time Of The 'Asr Prayer
حدیث نمبر: 683
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو بكر بن ابي شيبة ، حدثنا سفيان بن عيينة ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة ، قالت:" صلى النبي صلى الله عليه وسلم العصر والشمس في حجرتي لم يظهرها الفيء بعد".
(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ فِي حُجْرَتِي لَمْ يُظْهِرْهَا الْفَيْءُ بَعْدُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی نماز پڑھی اور دھوپ میرے کمرے میں باقی رہی، ابھی تک سایہ دیواروں پر چڑھا نہیں تھا ۱؎۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المواقیت 1 (522)، 13 (546)، الخمس 4 (3103)، صحیح مسلم/المساجد 31 (611)، (تحفة الأشراف: 16440)، وقد أخرجہ: سنن ابی داود/الصلاة 5 (407)، سنن الترمذی/الصلاة 6 (159)، سنن النسائی/المواقیت 8 (506)، موطا امام مالک/ وقوت الصلاة 1 (2)، مسند احمد6/37، 85، 199، 278) (صحیح)» ‏‏‏‏

وضاحت:
۱؎: سائے کا کمرہ کے اندر ہونا دلالت کرتا ہے کہ عصر کا وقت ہوتے ہی نماز پڑھ لی گئی تھی، اگر دیر کی جاتی تو سایہ کمرے میں نہ رہتا بلکہ دیواروں پر چڑھ جاتا۔

It was narrated that 'Aishah said: "The Prophet prayed the 'Asr when the sun was shining into my room and there were no shadows yet."
USC-MSA web (English) Reference: 0


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: بخاري ومسلم

   صحيح البخاري3103عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس لم تخرج من حجرتها
   صحيح البخاري545عائشة بنت عبد اللهصلى العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفيء من حجرتها
   صحيح البخاري544عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس لم تخرج من حجرتها
   صحيح البخاري546عائشة بنت عبد اللهيصلي صلاة العصر والشمس طالعة في حجرتي لم يظهر الفيء بعد
   صحيح مسلم1381عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس في حجرتها قبل أن تظهر
   صحيح مسلم1382عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس طالعة في حجرتي لم يفئ الفيء بعد
   صحيح مسلم1383عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفيء في حجرتها
   صحيح مسلم1384عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس واقعة في حجرتي
   جامع الترمذي159عائشة بنت عبد اللهصلى العصر والشمس في حجرتها ولم يظهر الفيء من حجرتها
   سنن أبي داود407عائشة بنت عبد اللهيصلي العصر والشمس في حجرتها قبل أن تظهر
   سنن النسائى الصغرى506عائشة بنت عبد اللهصلى صلاة العصر والشمس في حجرتها لم يظهر الفيء من حجرتها
   سنن ابن ماجه683عائشة بنت عبد اللهصلى العصر والشمس في حجرتي لم يظهرها الفيء بعد
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 683 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث683  
اردو حاشہ:
اس سے معلوم ہو کہ نبی ﷺ نے عصر کی نماز جلدی ادا فرمائی کیونکہ اگر دیر کی جائے تو سایہ پورے صحن میں پھیل جائے گا اور دیوار پر چڑھنا شروع ہو جائے گا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 683   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 407  
´عصر کے وقت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر ایسے وقت میں ادا فرماتے تھے کہ دھوپ میرے حجرے میں ہوتی، ابھی دیواروں پر چڑھی نہ ہوتی۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 407]
407۔ اردو حاشیہ:
حجرہ عربی زبان میں گھر کے ساتھ گھرے ہوئے آنگن کو بھی کہتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے صحن کی دیواریں چھوٹی ہی تھیں اس لیے دھوپ ابھی آنگن ہی میں ہوتی تھی۔ مشرقی دیوارپر چڑھتی نہ تھی کہ عصر کا وقت ہو جاتا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ لیتے تھے۔ معلوم ہوا کہ آپ اوّل وقت میں عصر پڑھتے تھے۔
   سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعدی، حدیث/صفحہ نمبر: 407   

  فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 506  
´عصر جلدی پڑھنے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر پڑھی، اور دھوپ ان کے حجرے میں تھی، اور سایہ ان کے حجرے سے (دیوار پر) نہیں چڑھا تھا۔ [سنن نسائي/كتاب المواقيت/حدیث: 506]
506 ۔ اردو حاشیہ: حدیث کا مقصد عصر کی نماز جلدی پڑھنا ہے، یعنی مثل اول ہوتے ہیں پڑھ لیتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے سے مراد ان کے گھر کا صحن ہے جو دیوار سے گھرا ہوا تھا۔ دوپہر کو پورے صحن میں دھوپ ہوتی تھی اور جیسے جیسے سورج ڈھلتا جاتا تھا، مغربی دیوار کا سایہ صحن میں پھیلتا جاتا تھا، لیکن دیوار چونکہ بہت زیادہ اونچی نہ تھی، اس لیے ابھی صحن میں دھوپ باقی رہتی تھی، مشرقی دیوار پر سایہ چڑھ نہ پاتا تھا کہ وہ مغربی دیوار کے ایک مثل ہو جاتا تھا اور اس وقت نماز قائم کر دی جاتی تھی۔
   سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 506   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1382  
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز اس وقت پڑھتے جبکہ دھوپ میرے کمرہ میں چمک رہی ہوتی، ابھی تک اس جگہ سے سایہ نہ پھیلا ہوتا اور ابوبکر نےلَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ کی جگہ لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ کہا (دونوں کا معنی ایک ہی ہے) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1382]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
قَبْلَ أَنْ تَظْهَر:
دھوپ ابھی کمرہ میں موجود تھی،
اسی مفہوم کو لَمْ يَفِئِ الْفَيْءُ سے ادا کیا گیا ہے کہ دھوپ کی جگہ سایہ نے نہیں لی تھی،
دھوپ اٹھتی ہے تو اس کی جگہ سایہ پھیلتا ہے،
اس لیے دونوں الفاظ میں تضاد نہیں ہے اور لَمْ يَظْهَرِ الْفَيْءُ کا معنی بھی یہی ہے کہ اس دھوپ کی جگہ سایہ ظاہر نہیں ہوا تھا،
اس کی جگہ سایہ نہیں پھیلا تھا،
اس طرح آپﷺ عصر کی نماز وقت ہوتے ہی پڑھ لیتے تھے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1382   

  الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1383  
نبی اکرم ﷺ کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز، اس وقت پڑھتے جبکہ دھوپ ان کے حجرہ میں ہوتی، سایہ ان کے حجرہ میں نہ پھیلا ہوتا تھا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1383]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
جب حجرہ کی دیواریں چھوٹی ہوں یعنی چھت بلند نہ ہو تو اس میں دھوپ اس صورت میں ہو گی جب سورج بلند ہو اس لیے عصر کا وقت ایک مثل سایہ کے بعد شروع ہوتا ہے۔
   تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1383   

  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3103  
3103. حضرت عائشہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نماز عصر ایسے وقت میں ادا کرتے تھے جبکہ دھوپ ابھی ان کے حجرے سے نہیں نکلی ہوتی تھی۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:3103]
حدیث حاشیہ:
حضرت عائشہ ؓ کی طرف حجرہ کو منسوب کیا گیا‘ اسی سے باب کا مطلب ثابت ہوا۔
یہ حدیث کتاب المواقیت میں بھی گزر چکی ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3103   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:544  
544. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: دھوپ ابھی میرے حجرے سے نہ نکلی ہوتی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نماز عصر پڑھ لیتے تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:544]
حدیث حاشیہ:
(1)
عصر کے اول وقت (ایک مثل سایہ)
کی تعیین کے لیے امام بخاری ؒ کو اپنی شرائط کے مطابق کوئی حدیث نہ مل سکی، اس لیے انھوں نے ایسی احادیث ذکر کی ہیں جن سے اول وقت کا استنباط ہوسکے، اگرچہ امام مسلم ؒ متعدد ایسی احادیث لائے ہیں جو واضح طور پر مقصود پر دلالت کرتی ہیں۔
مذکورہ روایت سے تعجیل عصر کا استدلال امام نووی ؒ نے بایں الفاظ نقل کیا ہے:
سیدہ عائشہ ؓ کے حجرے کا صحن انتہائی چھوٹا تھا اور اس کی دیواریں اس قدر نیچی تھیں کہ ان کی اونچائی صحن کی پیمائش سے کچھ کم تھی، اس لیے جب دیوار کا سایہ ایک مثل ہوگا تو صحن کی دھوپ بالکل کنارے پر پہنچ جائے گی۔
(شرح النووي، حدیث: 5/152،153) (2)
اس استدلال کی وضاحت یوں ہے کہ حجرے سے مراد صحن کی چار دیواری ہے، صحن کی پیمائش، چار دیواری سے کچھ زائد تھی، اس لیے ایک مثل کی دھوپ صحن میں رہے گی، لیکن دوسری مثل کے شروع ہوتے ہی دیوار پر چڑھنا شروع ہوجائے گی۔
چونکہ عائشہ ؓ کا فرمان ہے کہ نماز سے فراغت کے وقت دھوپ میرے صحن میں باقی ہوتی تھی، گویا عصر کی نماز مثل ثانی کے شروع ہوتے ہی پڑھ لی جاتی تھی۔
(فتح الباري: 35/2)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 544   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:546  
546. حضرت عائشہ‬ ؓ س‬ے ایک اور روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ عصر کی نماز سے فارغ ہو جاتے جبکہ دھوپ میرے حجرے (کے صحن) میں نمایاں ہوتی تھی اور سایہ مکمل طور پر نہ آیا ہوتا تھا۔ امام مالک، یحییٰ بن سعید، شعیب اور ابن ابی حفصہ نے یہ الفاظ بیان کیے ہیں کہ دھوپ کے اوپر چڑھنے سے پہلے پہلے (نماز پڑھ لیتے تھے)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:546]
حدیث حاشیہ:
حضرت عائشہ ؓ کا حجرہ جس میں رسول اللہ ﷺ، حضرت ابو بکر صدیق ؓ اور حضرت عمر ؓ دفن ہیں، مسجد نبوی کے مشرقی جانب واقع تھا جبکہ قبلہ جنوب کی جانب تھا اور اس طرف حضرت حفصہ ؓ اور حضرت میمونہ ؓ کے حجرات تھے۔
مغرب کی طرف کوئی حجرہ نہیں تھا۔
مشرقی جانب جنوبی گوشے میں حضرت سودہ، اس کے آگے شمال کی طرف حضرت عائشہ، پھر حضرت فاطمہ اور آخر میں حضرت صفیہ ؓ کا حجرہ تھا۔
جبکہ شمالی جانب حضرت زینب بنت خزیمہ ؓ، ان کی وفات کے بعد وہی حجرہ حضرت ام سلمہ ؓ کی تحویل میں آگیا۔
مشرقی جانب ام حبیبہ ؓ، حضرت جویریہ اور حضرت زینب بنت حجش ؓ کے حجرات تھے۔
حضرت عائشہ ؓ کے حجرے کی اونچائی زیادہ سے زیادہ آٹھ فٹ تھی، کیونکہ حضرت حسن بصری ؒ کا بیان ہے کہ وہ ہاتھ اٹھاتے تو چھت سے لگ جاتا تھا۔
(طبقات ابن سعد: 117/8)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 546   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.