الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
The Book of Purification and its Sunnah
50. بَابُ : مَا جَاءَ فِي تَخْلِيلِ اللِّحْيَةِ
50. باب: داڑھی میں خلال کرنے کا بیان۔
Chapter: Concerning running the fingers through the beard (when performing ablution)
حدیث نمبر: 430
پی ڈی ایف بنائیں مکررات اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن ابي خالد القزويني ، حدثنا عبد الرزاق ، عن إسرائيل ، عن عامر بن شقيق الاسدي ، عن ابي وائل ، عن عثمان " ان رسول الله صلى الله عليه وسلم توضا فخلل لحيته".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْقَزْوِينِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ شَقِيقٍ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عُثْمَانَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَخَلَّلَ لِحْيَتَهُ".
عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنی داڑھی میں خلال کیا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الطہارة 23 (31)، (تحفة الأشراف: 9809)، مسند احمد (1/57)، سنن الدارمی/الطہارة 33 (731) (صحیح)» ‏‏‏‏

It was narrated from 'Uthman that: The Messenger of Allah performed ablution and ran his fingers through his beard.
USC-MSA web (English) Reference: 0


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

   صحيح البخاري1934عثمان بن عفانتوضأ فأفرغ على يديه ثلاثا ثم تمضمض واستنثر ثم غسل وجهه ثلاثا ثم غسل يده اليمنى إلى المرفق ثلاثا ثم غسل يده اليسرى إلى المرفق ثلاثا ثم مسح برأسه ثم غسل رجله اليمنى ثلاثا ثم اليسرى ثلاثا
   صحيح مسلم545عثمان بن عفانتوضأ ثلاثا ثلاثا
   سنن أبي داود108عثمان بن عفانتمضمض ثلاثا واستنثر ثلاثا وغسل وجهه ثلاثا ثم غسل يده اليمنى ثلاثا وغسل يده اليسرى ثلاثا ثم أدخل يده فأخذ ماء فمسح برأسه وأذنيه فغسل بطونهما وظهورهما مرة واحدة ثم غسل رجليه
   سنن ابن ماجه430عثمان بن عفانتوضأ فخلل لحيته
   سنن ابن ماجه435عثمان بن عفانتوضأ فمسح رأسه مرة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 430 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث430  
اردو حاشہ:
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ ڈاڑھی کا خلال کرنا سنت ہے۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 430   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث435  
´سر کے مسح کا بیان۔`
عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، اور اپنے سر کا ایک مرتبہ مسح کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 435]
اردو حاشہ:
یعنی جس طرح دوسرے اعضاء دودو یا تین بار نہیں کیا۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 435   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1934  
1934. حضرت حمران سے روایت ہے انھوں نے کہا: میں نے حضرت عثمان ؓ کو دیکھا کہ انھوں نے وضو کیا اور اپنے دونوں ہاتھوں پر تین تین بار پانی بہایا۔ پھر کلی اور ناک میں پانی ڈالا اس کے بعد تین بار چہرہ دھویا پھر دایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا، پھر بایاں ہاتھ کہنی تک تین بار دھویا۔ اس کے بعد سرکا مسح کیا۔ پھر دایاں پاؤں تین بار اس کے بعد بایاں پاؤں تین بار دھویا، پھر فرمایا، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا اور فرمایا: جس نے میرے وضو جیسا وضو کیا، پھر دو رکعتیں پڑھیں اور دل میں کوئی خیال نہ لایا تو اس کے پچھلے سب گناہ بخش دیے جائیں گے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1934]
حدیث حاشیہ:
(1)
حدیث کے معنی ہیں کہ جس شخص نے کامل وضو کیا جو اس کی تمام سنتوں پر مشتمل ہو، ان میں مسواک بھی شامل ہے۔
(2)
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مسواک کے خشک یا تر ہونے میں کوئی فرق نہیں۔
مسواک کرنے میں روزہ دار اور غیر روزہ دار کی تفریق کو روا نہیں رکھا گیا، اس لیے روزہ دار مسواک کر سکتا ہے۔
مسواک تر ہو یا خشک، روزہ فرض ہو یا نفل، دن کے آغاز میں کی جائے یا اس کے آخری حصے میں اسے استعمال کیا جائے، سب جائز ہے۔
قبل ازیں امام ابن سیرین نے مسواک کرنے کو وضو پر قیاس کیا تھا۔
آپ نے فرمایا:
روزہ دار کے لیے تازہ مسواک کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
ان سے غرض کیا گیا کہ تازہ مسواک کا ذائقہ ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا:
پانی کا بھی ذائقہ ہوتا ہے، حالانکہ تم اس سے کلی کرتے ہو۔
امام بخاری نے روزہ دار کے لیے مسواک کرنے کا جواز ثابت کرنے کے لیے حدیث عثمان کو بیان کیا ہے جس میں وضو کا طریقہ بیان ہوا ہے۔
اس میں وضاحت ہے کہ آپ نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا۔
اس وضو میں روزہ دار اور افطار کرنے والے کا فرق ملحوظ نہیں رکھا گیا۔
دراصل امام بخاری ؒ ان حضرات کی تردید کرنا چاہتے ہیں جو روزے دار کے لیے تازہ مسواک کو مکروہ خیال کرتے ہیں۔
(فتح الباري: 202/4)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1934   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.