الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
سنن ابن ماجه کل احادیث 4341 :حدیث نمبر
سنن ابن ماجه
کتاب: صیام کے احکام و مسائل
The Book of Fasting
10. بَابُ : مَا جَاءَ فِي الصَّوْمِ فِي السَّفَرِ
10. باب: سفر میں روزہ رکھنے کا بیان۔
Chapter: What was narrated concerning fasting while traveling
حدیث نمبر: 1663
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا محمد بن بشار ، حدثنا ابو عامر . ح وحدثنا عبد الرحمن بن إبراهيم ، وهارون بن عبد الله الحمال ، قالا: حدثنا ابن ابي فديك جميعا، عن هشام بن سعد ، عن عثمان بن حيان الدمشقي ، حدثتني ام الدرداء ، عن ابي الدرداء انه، قال:" لقد رايتنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في بعض اسفاره في اليوم الحار الشديد الحر، وإن الرجل ليضع يده على راسه من شدة الحر، وما في القوم احد صائم إلا رسول الله صلى الله عليه وسلم، وعبد الله بن رواحة".
(مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَمَّالُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ جَمِيعًا، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ، قَالَ:" لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ فِي الْيَوْمِ الْحَارِّ الشَّدِيدِ الْحَرِّ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، وَمَا فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ".
ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں سخت گرمی کے دن دیکھا کہ آدمی اپنا ہاتھ گرمی کی شدت کی وجہ سے اپنے سر پر رکھ لیتا، اور لوگوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی بھی روزے سے نہ تھا۔

تخریج الحدیث: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الصوم 17 (1122)، (تحفة الأشراف: 10991)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الصوم 35 (1945)، سنن ابی داود/الصوم 44 (2409)، مسند احمد (5/194، 6/44) (صحیح)» ‏‏‏‏

It was narrated that Abu Darda’ said: “We were with the Messenger of Allah (ﷺ) on one of his journeys on a hot day, and it was extremely hot. A man would put his hand over his head because of the intense heat. No one among the people was fasting except for the Messenger of Allah (ﷺ) and ‘Abdullah bin Rawahah.”
USC-MSA web (English) Reference: 0


قال الشيخ الألباني: صحيح

قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم

   صحيح البخاري1945عويمر بن مالكخرجنا مع النبي في بعض أسفاره في يوم حار حتى يضع الرجل يده على رأسه من شدة الحر وما فينا صائم إلا ما كان من النبي وابن رواحة
   صحيح مسلم2631عويمر بن مالكرأيتنا مع رسول الله في بعض أسفاره في يوم شديد الحر حتى إن الرجل ليضع يده على رأسه من شدة الحر وما منا أحد صائم إلا رسول الله وعبد الله بن رواحة
   صحيح مسلم2630عويمر بن مالكخرجنا مع رسول الله في شهر رمضان في حر شديد حتى إن كان أحدنا ليضع يده على رأسه من شدة الحر وما فينا صائم إلا رسول الله وعبد الله بن رواحة
   سنن أبي داود2409عويمر بن مالكخرجنا مع رسول الله في بعض غزواته في حر شديد حتى إن أحدنا ليضع يده على رأسه من شدة الحر ما فينا صائم إلا رسول الله وعبد الله بن رواحة
   سنن ابن ماجه1663عويمر بن مالكرأيتنا مع رسول الله في بعض أسفاره في اليوم الحار الشديد الحر وإن الرجل ليضع يده على رأسه من شدة الحر وما في القوم أحد صائم إلا رسول الله وعبد الله بن رواحة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1663 کے فوائد و مسائل
  مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1663  
اردو حاشہ:
فائدہ:
اس سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی برداشت کرسکتا ہو تو سفر میں بھی روزہ رکھ سکتا ہے۔
اگرچہ اس میں مشقت ہی ہو۔
   سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1663   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1945  
1945. حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے۔ گرمی اس قدر سخت تھی کہ اس کی شدت سے آدمی اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ اس وجہ سے ہم میں سے کوئی شخص بھی روزے سے نہ تھا۔ صرف رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ روزے دار تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1945]
حدیث حاشیہ:
معلوم ہوا کہ اگر شروع سفر رمضان میں کوئی مسافر روزہ بھی رکھ لے اور آگے چل کر اس کو تکلیف معلوم ہو تو وہ بلاتردد روزہ ترک کر سکتا ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1945   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1945  
1945. حضرت ابو درداء ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ ہم کسی سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے۔ گرمی اس قدر سخت تھی کہ اس کی شدت سے آدمی اپنے سر پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔ اس وجہ سے ہم میں سے کوئی شخص بھی روزے سے نہ تھا۔ صرف رسول اللہ ﷺ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ روزے دار تھے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1945]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ رکھنا اور ترک کرنا دونوں جائز ہیں کیونکہ صحیح مسلم کی روایت سے پتہ چلتا ہے کہ مذکورہ سفر ماہ رمضان میں ہوا تھا۔
حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ماہ رمضان کے موقع پر سخت گرمی میں سفر کے لیے نکلے تھے۔
(صحیح مسلم، الصیام، حدیث: 2630(1122) (2)
واضح رہے کہ مذکورہ سفر غزوۂ بدر اور فتح مکہ کے علاوہ تھا کیونکہ حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ جنگ موتہ میں شہید ہوئے اور فتح مکہ اس کے بعد ہوا۔
اور غزوۂ بدر اس لیے نہیں ہو سکتا کہ راوئ حدیث حضرت ابو درداء ؓ اس وقت مسلمان نہیں ہوئے تھے۔
(3)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص دوران سفر میں روزہ رکھنے کی ہمت رکھتا ہو اور اسے کسی قسم کی مشقت نہ ہو تو اسے روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔
(فتح الباري: 233/4) (4)
اس حدیث سے یہ بھی پتہ چلا کہ اگر کوئی انسان رمضان کا روزہ رکھ کر سفر کا آغاز کرے، آگے جا کر اسے تکلیف محسوس ہو تو بلاتردد روزہ افطار کر سکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1945   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.