صحيح ابن خزيمه کل احادیث 3080 :حدیث نمبر

صحيح ابن خزيمه
نفلی روزوں کے ابواب کا مجموعہ
1470.
1470. ہمیشہ نفلی روزے رکھنے والوں کے لئے اللہ تعالی نے جنّت میں جو بالا خانے تیار کر رکھے ہیں، اُن کا بیان بشرطیکہ روایت صحیح ہو
حدیث نمبر: Q2136
Save to word اعراب

تخریج الحدیث:

حدیث نمبر: 2136
Save to word اعراب
قال ابو بكر: اما خبر عبد الرحمن بن إسحاق ابي شيبة 63 ؛ فإن ابن المنذر حدثنا، قال: حدثنا ابن فضيل ، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق ، عن النعمان بن سعد ، عن علي ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن في الجنة لغرفا، يرى ظهورها من بطونها، وبطونها من ظهورها". فقام اعرابي، فقال: يا رسول الله، لمن هي؟ قال:" هي لمن قال طيب الكلام، واطعم الطعام، وادام الصيام، وقام لله بالليل والناس نيام" قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَّا خَبَرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاقَ أَبِي شَيْبَةَ 63 ؛ فَإِنَّ ابْنَ الْمُنْذِرِ حَدَّثَنَا، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ فِي الْجَنَّةِ لَغُرَفًا، يُرَى ظُهُورُهَا مِنْ بُطُونِهَا، وَبُطُونُهَا مِنْ ظُهُورِهَا". فَقَامَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لِمَنْ هِيَ؟ قَالَ:" هِيَ لِمَنْ قَالَ طَيِّبَ الْكَلامِ، وَأَطْعَمَ الطَّعَامَ، وَأَدَامَ الصِّيَامَ، وَقَامَ لِلَّهِ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ"
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیشک جنّت میں ایسے بالاخانے ہیں کہ ان کے بیرونی حصّے کا نظارہ اندر سے کیا جاسکتا ہے اور اندر سے بیرونی حصّہ دکھائی دیتا ہے۔ تو ایک اعرابی کھڑا ہوا اور اُس نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، یہ بالا خانے کس کے لئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اُس کے لئے ہیں جو پاکیزہ شیریں گفتگو کرتا ہے، بھوکوں کو کھانا کھلاتا ہے، ہمیشہ روزے رکھتا ہے اور رات کو اُس وقت اللہ کی رضا کے لئے نفل پڑھتا ہے جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں۔

تخریج الحدیث: حسن


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2024 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.