الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
بلوغ المرام کل احادیث 1359 :حدیث نمبر
بلوغ المرام
حج کے مسائل
हज के नियम
5. باب صفة الحج ودخول مكة
5. حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
५. “ हज्ज का तरीक़ा और मक्का जाने के बारे में ”
حدیث نمبر: 629
Save to word مکررات اعراب Hindi
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: انه كان يرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة ثم يدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي الوسطى ثم ياخذ ذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة ثم يدعو فيرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول: هكذا رايت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يفعله. رواه البخاري.وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أنه كان يرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة ثم يدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي الوسطى ثم يأخذ ذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة ثم يدعو فيرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوادي ولا يقف عندها ثم ينصرف فيقول: هكذا رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يفعله. رواه البخاري.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ سب سے قریبی جمرہ کو سات سنگریزے مارتے اور ہر کنکری مارتے وقت تکبیر کہتے۔ پھر آگے تشریف لے جاتے اور میدان میں آ کر کھڑے ہو جاتے اور قبلہ رخ ہو کر طویل قیام فرماتے اور اپنے ہاتھ اوپر اٹھا کر دعا کرتے۔ پھر جمرہ وسطی (درمیانہ شیطان) کو کنکریاں مارتے۔ پھر بائیں جانب ہو جاتے اور میدان میں آ کر قبلہ رخ کھڑے ہو جاتے۔ پھر اپنے ہاتھ اوپر اٹھاتے اور دعا فرماتے اور طویل قیام فرماتے۔ اس کے بعد جمرہ عقبہ کو کنکریاں وادی کی نچلی جگہ سے مارتے مگر وہاں قیام نہ فرماتے۔ پھر واپس تشریف لے آتے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح عمل کرتے دیکھا ہے۔ (بخاری)
हज़रत इब्न उमर रज़ि अल्लाहु अन्हुमा से रिवायत है कि वह सब से क़रीबी शैतान को सात कंकरियां मारते और हर कंकरी मारते समय अल्लाहु अकबर कहते। फिर आगे बढ़ जाते और मैदान में आ कर खड़े हो जाते और क़िब्ले की तरफ़ हो कर लम्बे समय तक खड़े होते और अपने हाथ उपर उठा कर दुआ करते। फिर बीच वाले शैतान को कंकरियां मारते। फिर बाएँ ओर हो जाते और मैदान में आ कर क़िब्ले की तरफ़ खड़े हो जाते। फिर अपने हाथ उपर उठाते और दुआ करते और लम्बे समय तक खड़े होते। इस के बाद पीछे वाले शैतान को कंकरियां घाटी की निचली जगह से मारते मगर वहां न रुकते। फिर वापस तशरीफ़ ले आते। इब्न उमर रज़ि अल्लाहु अन्हुमा का बयान है कि मैं ने रसूल अल्लाह सल्लल्लाहु अलैहि वसल्लम को इसी तरह करते देखा है। (बुख़ारी)

تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب إذا رمي الجمرتين يقوم مستقبل القبلة ويسهل، حديث:1751.»

Ibn 'Umar (RAA) narrated that he used to throw the pebbles of al-Jamrat ud-Duniya (the Jamrah near to the Khaif mosque) with seven small pebbles, and would recite Takbir when throwing each pebble. Then he would go ahead until he reached the bottom of the valley, where he would stand for quite a long time facing the direction of the Qiblah, and raising his hands, while supplicating Allah. Then he went and threw seven pebbles at the second Jamrah(al-Jamarah al·Wosta) while saying Allahu Akbar with each throw. He would then turn to the left of the bottom of the valley, stand there facing the Qiblah and supplicating to Allah with his hands raised. Then he went to Jamrat-ul Aqabah, threw seven pebbles at it, uttering the Takbir with each throw. After that he left and did not pause. He would then say, ‘I saw the Prophet (ﷺ) doing like this.’ Related by Al-Bukhari.
USC-MSA web (English) Reference: 0


حكم دارالسلام: صحيح

   صحيح البخاري1752عبد الله بن عمريرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات ثم يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم فيسهل فيقوم مستقبل القبلة قياما طويلا فيدعو ويرفع يديه ثم يرمي الجمرة الوسطى كذلك فيأخذ ذات الشمال فيسهل ويقوم مستقبل القبلة قياما طويلا فيدعو ويرفع يديه ثم يرمي الجمرة ذات العقبة من بطن الواد
   صحيح البخاري1751عبد الله بن عمريرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة فيقوم طويلا ويدعو ويرفع يديه ثم يرمي الوسطى ثم يأخذ ذات الشمال فيستهل ويقوم مستقبل القبلة فيقوم طويلا ويدعو ويرفع يديه ويقوم طويلا ثم يرمي جمرة ذات العقبة من بطن الوا
   سنن أبي داود1969عبد الله بن عمريأتي الجمار في الأيام الثلاثة بعد يوم النحر ماشيا ذاهبا وراجعا ويخبر أن النبي كان يفعل ذلك
   المعجم الصغير للطبراني460عبد الله بن عمروقف بين الجمرتين في الحجة التي حج وذلك يوم النحر فقال هذا يوم الحج الأكبر
   بلوغ المرام629عبد الله بن عمرانه كان يرمي الجمرة الدنيا بسبع حصيات يكبر على إثر كل حصاة ثم يتقدم حتى يسهل فيقوم مستقبل القبلة
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 629 کے فوائد و مسائل
  علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 629  
629 لغوی تشریح:
«الجمرة الدنيا» «الدنيا» کے دال پر ضمہ اور کسرہ دونوں جائز ہیں۔ اس کے معنی قریب کے ہیں۔ یہ مسجد خیف کے قریب ہے اور یہ پہلا جمرہ ہے جسے ایام تشریق میں کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
«ثمه يسهل» «يسهل» کی یا پر ضمہ ہے۔ اس کے معنی ہیں: سھل کی طرف جانا اور وہ زمین کے نشیبی حصے کو کہتے ہیں۔
«يرمي الوسطيٰ» «وسطيٰ» سے مراد جمرہ ثانیہ (دوسرا جمرہ) ہے جو دونوں جمروں کے درمیان ہے۔

فائدہ:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمروں کو کنکریاں مار کر وہیں کھڑے نہ رہتے بلکہ وہاں سے چل کر میدان میں آ کھڑے ہوتے اور پورے اطمینان کے ساتھ قبلہ رخ ہو کر طویل دعا فرماتے، لہٰذا کنکریاں مارے جانے کے بعد وہیں کھڑے رہنا چاہیے بلکہ میدان میں کھلی جگہ آ کر ہاتھ اٹھا کر طویل دعا کرنی چاہیے۔ اس طرح حاجی ہجوم کی زد سے بھی محفوظ رہے گا۔
   بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 629   

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1751  
1751. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ قریب والے جمرے کو سات کنکریاں مارتے اور ہرکنکری کے بعد اللہ أکبر کہتے۔ پھر آگے بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کرقبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے۔ اس طرح دیر تک وہاں کھڑے رہتے۔ پھر درمیان والے جمرے کو کنکریاں مارتے۔ اس کے بعد بائیں جانب نرم وہموار زمین پر چلے جاتے اور قبلہ رو ہوجاتے۔ پھر دیر تک ہاتھ اٹھاتے کر دعا کرتے رہتے اور یوں دیر تک وہاں کھڑے رہتے۔ پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبہ کو رمی کرتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ پھر واپس آجاتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1751]
حدیث حاشیہ:
یہ آخری رمی گیارہویں تاریخ میں سب سے پہلے رمی جمرہ کی ہے، یہ جمرہ مسجد خیف سے قریب پڑتا ہے یہاں نہ کھڑا ہونا ہے نہ دعا کرنا، ایسے مواقع پر عقل کا دخل نہیں ہے، صرف شارع ؑ کی اتباع ضروری ہے۔
ایمان اور اطاعت اسی کا نام ہے جہاں جو کام منقول ہوا ہے وہاں وہی کام سر انجام دینا چاہئے اور اپنی ناقص عقل کا دخل ہرگز ہرگز نہ ہوناچاہئے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1751   

  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1752  
1752. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ جمرہ اولیٰ کو سات کنکریاں مارتے۔ ہر کنکری مارنے کے بعد وہ اللہ أکبر کہتے۔ پھر آگے بڑھتے اور نرم زمین میں قبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور دیر تک کھڑے رہتے دعا کرتے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ پھر جمرہ وسطی کو رمی کرتے اور بائیں جانب نرم زمین میں چلے جاتے اور دیر تک قبلہ رو ہوکر کھڑے رہتے دعا کرتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ اس کے بعد جمرہ عقبہ کو وادی کے نشیب سے رمی کرتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1752]
حدیث حاشیہ:
یہ حدیث کئی جگہ نقل ہوئی ہے اور اس سے حضرت مجتہد مطلق امام بخاری ؒ نے بہت سے مسائل کا اخراج فرمایا ہے، جو آپ کے تفقہ کی دلیل ہے ان لوگوں پر بے حد افسوس جو ایسے فقیہ اعظم فاضل مکرم امام معظم ؒ کی شان میں تنقیص کرتے ہوئے آپ کی فقاہت اور درایت کا انکار کرتے ہیں اور آپ کو محض ناقل مطلق کہہ کر اپنی ناسمجھی یا تعصب باطنی کا ثبوت دیتے ہیں، بعض علماء احناف کا رویہ اس بارے میں انتہائی تکلیف دہ ہے جو محدثین کرام خصوصاً امام بخاری ؒ کی شان میں اپنی زبان بے لگام چلا کر خود ائمہ دین مجتہدین کی تنقیص کرتے ہیں۔
امام بخاری ؒ کو اللہ پاک نے جو مقام عظمت عطا فرمایا ہے وہ ایسی واہی تباہی باتوں سے گرایا نہیں جاسکتا ہاں ایسے کور باطن نام نہاد علماءکی نشان دہی ضرور کردیتا ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1752   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1751  
1751. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ وہ قریب والے جمرے کو سات کنکریاں مارتے اور ہرکنکری کے بعد اللہ أکبر کہتے۔ پھر آگے بڑھتے اور نرم زمین پر پہنچ کرقبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور دیر تک ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے رہتے۔ اس طرح دیر تک وہاں کھڑے رہتے۔ پھر درمیان والے جمرے کو کنکریاں مارتے۔ اس کے بعد بائیں جانب نرم وہموار زمین پر چلے جاتے اور قبلہ رو ہوجاتے۔ پھر دیر تک ہاتھ اٹھاتے کر دعا کرتے رہتے اور یوں دیر تک وہاں کھڑے رہتے۔ پھر وادی کے نشیب سے جمرہ عقبہ کو رمی کرتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے۔ پھر واپس آجاتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو ایسا کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1751]
حدیث حاشیہ:
(1)
جمرۂ دنیا، مسجد خیف کے قریب اور مکہ سے دور ہے۔
گیارہ ذوالحجہ کو سب سے پہلے اسی کو کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
کنکریاں مارنے کے بعد ایک طرف ہٹ کر کھڑے ہونا چاہیے تاکہ دوسرے لوگوں کے لیے رکاوٹ نہ بنے اور ان کی کنکریوں سے بھی بچا جا سکے۔
(2)
روایات میں یہ بھی صراحت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سورۂ بقرہ پڑھنے کی مقدار وہاں کھڑے نہایت خشوع سے دعا کرتے رہتے۔
(المصنف لابن أبي شیبة: 419/5)
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1751   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1752  
1752. حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے وہ جمرہ اولیٰ کو سات کنکریاں مارتے۔ ہر کنکری مارنے کے بعد وہ اللہ أکبر کہتے۔ پھر آگے بڑھتے اور نرم زمین میں قبلہ رو کھڑے ہوجاتے اور دیر تک کھڑے رہتے دعا کرتے اوراپنے دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ پھر جمرہ وسطی کو رمی کرتے اور بائیں جانب نرم زمین میں چلے جاتے اور دیر تک قبلہ رو ہوکر کھڑے رہتے دعا کرتے اور دونوں ہاتھ اٹھاتے۔ اس کے بعد جمرہ عقبہ کو وادی کے نشیب سے رمی کرتے اور اس کے پاس نہ ٹھہرتے اور فرماتے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1752]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے اور دوسرے جمرے کو رمی کرنے کے بعد دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا سنت ہے، اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔
صرف امام مالک ؒ سے انکار منقول ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی سنت کے مقابلے میں اس اختلاف کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔
(2)
یہ بھی معلوم ہوا کہ جمرہ عقبہ کے پاس کھڑے ہونا اور وہاں دعا کرنا ثابت نہیں۔
ایسے مواقع پر عقل کو کوئی دخل نہیں۔
صرف رسول اللہ ﷺ کی اتباع ضروری ہے۔
ایمان اور اطاعت اسی کا نام ہے کہ جہاں جو کام منقول ہو وہاں وہی کام سرانجام دیا جائے، اپنی ناقص عقل کو اس میں دخل کا کوئی حق نہیں۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1752   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.