الحمدللہ! انگلش میں کتب الستہ سرچ کی سہولت کے ساتھ پیش کر دی گئی ہے۔

 
صحيح البخاري کل احادیث 7563 :حدیث نمبر
صحيح البخاري
کتاب: دوا اور علاج کے بیان میں
The Book of Medicine
34. بَابُ الشَّرْطِ فِي الرُّقْيَةِ بِقَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ:
34. باب: سورۃ الفاتحہ سے دم جھاڑ کرنے میں (بکریاں لینے کی) شرط لگانا۔
(34) Chapter. The conditions required for doing a Ruqya with Surat Al-Fatiha.
حدیث نمبر: 5737
Save to word اعراب English
(موقوف) حدثني سيدان بن مضارب ابو محمد الباهلي، حدثنا ابو معشر البصري هو صدوق يوسف بن يزيد البراء، قال: حدثني عبيد الله بن الاخنس ابو مالك، عن ابن ابي مليكة، عن ابن عباس: ان نفرا من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بماء فيهم لديغ او سليم، فعرض لهم رجل من اهل الماء، فقال: هل فيكم من راق؟ إن في الماء رجلا لديغا او سليما، فانطلق رجل منهم فقرا بفاتحة الكتاب على شاء، فبرا، فجاء بالشاء إلى اصحابه، فكرهوا ذلك، وقالوا: اخذت على كتاب الله اجرا، حتى قدموا المدينة، فقالوا: يا رسول الله اخذ على كتاب الله اجرا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" إن احق ما اخذتم عليه اجرا كتاب الله".(موقوف) حَدَّثَنِي سِيدَانُ بْنُ مُضَارِبٍ أَبُو مُحَمَّدٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مَعْشَرٍ الْبَصْرِيُّ هُوَ صَدُوقٌ يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ الْبَرَّاءُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَخْنَسِ أَبُو مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرُّوا بِمَاءٍ فِيهِمْ لَدِيغٌ أَوْ سَلِيمٌ، فَعَرَضَ لَهُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَاءِ، فَقَالَ: هَلْ فِيكُمْ مِنْ رَاقٍ؟ إِنَّ فِي الْمَاءِ رَجُلًا لَدِيغًا أَوْ سَلِيمًا، فَانْطَلَقَ رَجُلٌ مِنْهُمْ فَقَرَأَ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَى شَاءٍ، فَبَرَأَ، فَجَاءَ بِالشَّاءِ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَكَرِهُوا ذَلِكَ، وَقَالُوا: أَخَذْتَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، حَتَّى قَدِمُوا الْمَدِينَةَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخَذَ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ أَجْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَحَقَّ مَا أَخَذْتُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا كِتَابُ اللَّهِ".
ہم سے سیدان بن مضارب ابو محمد باہلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعشر یوسف بن یزید البراء نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ بن اخنس ابو مالک نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ چند صحابہ ایک پانی سے گزرے جس کے پاس کے قبیلہ میں بچھو کا کاٹا ہوا (لدیغ یا سلیم راوی کو ان دونوں الفاظ کے متعلق شبہ تھا) ایک شخص تھا۔ قبیلہ کا ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کیا آپ لوگوں میں کوئی دم جھاڑ کرنے والا ہے۔ ہمارے قبیلہ میں ایک شخص کو بچھو نے کاٹ لیا ہے چنانچہ صحابہ کی اس جماعت میں سے ایک صحابی اس شخص کے ساتھ گئے اور چند بکریوں کی شرط کے ساتھ اس شخص پر سورۃ فاتحہ پڑھی، اس سے وہ اچھا ہو گیا وہ صاحب شرط کے مطابق بکریاں اپنے ساتھیوں کے پاس لائے تو انہوں نے اسے قبول کر لینا پسند نہیں کیا اور کہا کہ اللہ کی کتاب پر تم نے اجرت لے لی۔ آخر جب سب لوگ مدینہ آئے تو عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ان صاحب نے اللہ کی کتاب پر اجرت لے لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن چیزوں پر تم اجرت لے سکتے ہو ان میں سے زیادہ اس کی مستحق اللہ کی کتاب ہی ہے۔

Narrated Ibn `Abbas: Some of the companions of the Prophet passed by some people staying at a place where there was water, and one of those people had been stung by a scorpion. A man from those staying near the water, came and said to the companions of the Prophet, "Is there anyone among you who can do Ruqya as near the water there is a person who has been stung by a scorpion." So one of the Prophet's companions went to him and recited Surat-al-Fatiha for a sheep as his fees. The patient got cured and the man brought the sheep to his companions who disliked that and said, "You have taken wages for reciting Allah's Book." When they arrived at Medina, they said, ' O Allah's Apostle! (This person) has taken wages for reciting Allah's Book" On that Allah's Apostle said, "You are most entitled to take wages for doing a Ruqya with Allah's Book."
USC-MSA web (English) Reference: Volume 7, Book 71, Number 633


صحیح بخاری کی حدیث نمبر 5737 کے فوائد و مسائل
  مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5737  
حدیث حاشیہ:
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے احتیاط کو ملاحظہ کیا جائے کہ جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے تحقیق نہ کی بکریوں کو ہاتھ نہیں لگایا ہر مسلمان کی یہی شان ہونی چاہیئے خاص طور پر دین وایمان کے لیے جس قدر احتیاط سے کام لیا جائے کم ہے مگر ایسا احتیاط کرنے والے آج عنقا ہیں الا ما شاءاللہ۔
حضرت مولان وحیدالزماں فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی بنا پر تعلیم قرآن پر اجرت لینا جائز ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کا مہر تعلیم قرآن پر کردیا تھا جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے۔
   صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5737   

  الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5737  
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دم جھاڑ کرنے پر اجرت لینا جائز ہے بلکہ پہلے سے طے کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
لیکن صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی احتیاط قابل ملاحظہ ہے کہ جب تک انہیں اس کے حلال یا جائز ہونے کا علم نہیں ہوا بکریوں کو ہاتھ نہیں لگایا، البتہ دم جھاڑ کے لیے فارغ ہو جانا اور اسے ذریعۂ معاش بنا لینا انتہائی مذموم ہے۔
یہ طریقہ سلف صالحین کے ہاں غیر معروف ہے اور یہ دم کرنے والے، کروانے والے کو برائی اور فساد کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
جس طرح کسی بزرگ سے دعا کروانا تو جائز ہے لیکن اس بزرگ کا اس کام کے لیے فارغ ہو کر بیٹھ رہنا تاکہ لوگ اس کے پاس آ کر دعا کرائیں درست نہیں۔
ایسا کرنے سے کئی ایک مفاسد کے جنم لینے کا اندیشہ ہے۔
   هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5737   


http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.