وعن رفاعة بن رافع قال: جاء رجل فصلى في المسجد ثم جاء فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم: «اعد صلاتك فإنك لم تصل» . فقال: علمني يا رسول الله كيف اصلي؟ قال: «إذا توجهت إلى القبلة فكبر ثم اقرا بام القرآن وما شاء الله ان تقرا فإذا ركعت فاجعل راحتيك على ركبتيك ومكن ركوعك وامدد ظهرك فإذا رفعت فاقم صلبك وارفع راسك حتى ترجع العظام إلى مفاصلها فإذا سجدت فمكن السجود فإذا رفعت فاجلس على فخذك اليسرى ثم اصنع ذلك في كل ركعة وسجدة حتى تطمئن. هذا لفظ» المصابيح. ورواه ابو داود مع تغيير يسير وروى الترمذي والنسائي معناه. وفي رواية للترمذي قال: «إذا قمت إلى الصلاة فتوضا كما امرك الله به ثم تشهد فاقم فإن كان معك قرآن فاقرا وإلا فاحمد الله وكبره وهلله ثم اركع» وَعَن رِفَاعَة بن رَافع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ فَصَلَّى فِي الْمَسْجِدِ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ» . فَقَالَ: عَلِّمْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ أُصَلِّي؟ قَالَ: «إِذَا تَوَجَّهَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ فَكَبِّرْ ثُمَّ اقْرَأْ بِأُمِّ الْقُرْآنِ وَمَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَقْرَأَ فَإِذَا رَكَعَتْ فَاجْعَلْ رَاحَتَيْكَ عَلَى رُكْبَتَيْكَ وَمَكِّنْ رُكُوعَكَ وَامْدُدْ ظَهْرَكَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَأَقِمْ صُلْبَكَ وَارْفَعْ رَأْسَكَ حَتَّى تَرْجِعَ الْعِظَامُ إِلَى مَفَاصِلِهَا فَإِذَا سَجَدْتَ فَمَكِّنِ السُّجُودَ فَإِذَا رَفَعْتَ فَاجْلِسْ عَلَى فَخِذِكَ الْيُسْرَى ثُمَّ اصْنَعْ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ وَسَجْدَةٍ حَتَّى تَطْمَئِنَّ. هَذَا لَفَظُ» الْمَصَابِيحِ. وَرَوَاهُ أَبُو دَاوُدُ مَعَ تَغْيِيرٍ يَسِيرٍ وَرَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مَعْنَاهُ. وَفِي رِوَايَةٍ لِلتِّرْمِذِيِّ قَالَ: «إِذَا قُمْتَ إِلَى الصَّلَاةِ فَتَوَضَّأْ كَمَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ ثُمَّ تَشَهَّدْ فَأَقِمْ فَإِنْ كَانَ مَعَكَ قُرْآنٌ فَاقْرَأْ وَإِلَّا فَاحْمَدِ اللَّهَ وَكَبِّرْهُ وَهَلله ثمَّ اركع»
رفاعہ بن رافع بیان کرتے ہیں، ایک آدمی آیا، اس نے مسجد میں نماز پڑھی، پھر بنی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز دوبارہ پڑھو، کیونکہ تم نے نماز نہیں پڑھی۔ “ اس نے عرض کیا، اللہ کے رسول! مجھے سکھا دیں کہ میں کیسے نماز پڑھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم قبلہ رخ ہو جاؤ تو اللہ اکبر کہو، پھر سورۂ فاتحہ اور جو چاہو سورت پڑھو، جب (رکوع سے) اٹھو تو کمر سیدھی کرو اور سر اٹھاؤ حتیٰ کہ ہڈیاں اپنے جوڑوں میں واپس آ جائیں، جب سجدہ کرو تو خوب اچھی طرح سجدہ کرو، جب (سجدہ سے) اٹھو تو بائیں ران پر بیٹھو، پھر ہر رکوع و سجود میں ایسے ہی کرو حتیٰ کہ اطمینان ہو جائے۔ “ یہ مصابیح کے الفاظ ہیں، امام ابوداؤد نے کچھ تبدیلی کے ساتھ اسے روایت کیا ہے، امام ترمذی اور امام نسائی نے اسی معنی میں روایت کیا ہے، اور ترمذی کی روایت میں ہے: فرمایا: ”جب تم نماز کا ارادہ کرو تو اللہ کی تعلیم و حکم کے مطابق وضو کرو پھر کلمہ شہادت پڑھو، (بعض نے کہا: اذان دو) پھر اقامت کہو، اگر تمہیں قرآن یاد ہو تو قرآن پڑھو، ورنہ الحمد للہ، اللہ اکبر اور لا الہ الا اللہ پڑھو اور پھر رکوع کرو۔ “ اسنادہ حسن، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «إسناده حسن، رواه أبو داود (859) والترمذي (302 وقال: حديث حسن.) والنسائي (193/2 ح 1054) [وصححه ابن خزيمة (638) و ابن حبان (484)]»
وعن الفضل بن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الصلاة مثنى مثنى تشهد في كل ركعتين وتخشع وتضرع وتمسكن ثم تقنع يديك يقول ك ترفعهما إلى ربك مستقبلا ببطونهما وجهك وتقول يا رب يا رب ومن لم يفعل ذلك فهو كذا وكذا» . وفي رواية: «فهو خداج» . رواه الترمذي وَعَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الصَّلَاةُ مَثْنَى مثنى تشهد فِي كل رَكْعَتَيْنِ وَتَخَشُّعٌ وَتَضَرُّعٌ وَتَمَسْكُنٌ ثُمَّ تُقْنِعُ يَدَيْكَ يَقُول ك تَرْفَعُهُمَا إِلَى رَبِّكَ مُسْتَقْبِلًا بِبُطُونِهِمَا وَجْهَكَ وَتَقُولُ يَا رَبِّ يَا رَبِّ وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَهُوَ كَذَا وَكَذَا» . وَفِي رِوَايَةٍ: «فَهُوَ خداج» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ
فضل بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز دو رکعت ہے، ہر دو رکعت کے بعد تشہد پڑھ، خشوع و خضوع اور ہماری عاجزی و بے چارگی کا اظہار کر، پھر ہاتھ بلند کر کے اپنے رب سے دعا کر، اور جس نے ایسے نہ کیا تو وہ اس طرح، اس طرح ہے۔ “ اور ایک دوسری روایت میں ہے: ”تو وہ ناقص ہے۔ “ ضعیف۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (385) ٭ عبد الله بن نافع بن العمياء: مجھول، بل ضعفه الجمھور و السند معلل.»
عن سعيد بن الحارث بن المعلى قال: صلى لنا ابو سعيد الخدري فجهر بالتكبير حين رفع راسه من السجود وحين سجد وحين رفع من الركعتين وقال: هكذا رايت النبي صلى الله عليه وسلم. رواه البخاري عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: صَلَّى لَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ فَجَهَرَ بِالتَّكْبِيرِ حِينَ رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ وَحِينَ سَجَدَ وَحِينَ رَفَعَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ وَقَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
سعید بن حارث بن معلّی ؒ بیان کرتے ہیں، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی تو انہوں نے جب سجدوں سے سر اٹھایا، جب سجدہ کیا اور جب دو رکعتوں کے بعد کھڑے ہوئے تو بلند آواز سے اللہ اکبر کہا، اور فرمایا: میں نے نبیصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح کرتے دیکھا ہے۔ رواہ البخاری۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «رواه البخاري (825)»
وعن عكرمة قال: صليت خلف شيخ بمكة فكبر ثنتين وعشرين تكبيرة فقلت لابن عباس: إنه احمق فقال: ثكلتك امك سنة ابي القاسم صلى الله عليه وسلم. رواه البخاري وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ شَيْخٍ بِمَكَّةَ فَكَبَّرَ ثِنْتَيْنِ وَعِشْرِينَ تَكْبِيرَةً فَقُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّهُ أَحْمَقُ فَقَالَ: ثَكَلَتْكَ أُمُّكَ سُنَّةُ أَبِي الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ
عکرمہ ؒ بیان کرتے ہیں، میں نے مکہ میں ایک بزرگ کے پیچھے نماز پڑھی تو انہوں نے بائیس مرتبہ اللہ اکبر کہا، تو میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کہا: یہ تو احمق ہے، انہوں نے کہا: تیری ماں تجھے گم پائے، یہ تو ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔ رواہ البخاری۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «رواه البخاري (788)»
--. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز میں تکبیر کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 808
اعراب
وعن علي بن الحسين مرسلا قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر في الصلاة كلما خفض ورفع فلم تزل صلاته حتى لقي الله تعالى. رواه مالك وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ مُرْسَلًا قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي الصَّلَاة كلما خفض وَرفع فَلم تزل صلَاته حَتَّى لَقِي الله تَعَالَى. رَوَاهُ مَالك
علی بن حسین ؒ سے مرسل روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز میں جب جھکتے اور جب اٹھتے تو اللہ اکبر کہا کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پوری زندگی اسی طرح نماز پڑھتے رہے۔ صحیح، رواہ مالک۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «صحيح، رواه مالک (1/ 76 ح 161) ٭ السند مرسل و للحديث شواھد کثيرة و ھو بھا صحيح.»
وعن علقمة قال: قال لنا ابن مسعود: الا اصلي بكم صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فصلى ولم يرفع يديه إلا مرة واحدة مع تكبيرة الافتتاح. رواه الترمذي وابو داود والنسائي. وقال ابو داود: ليس هو بصحيح على هذا المعنى وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ لَنَا ابْنُ مَسْعُودٍ: أَلا أُصَلِّي بكم صَلَاة رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَصَلَّى وَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً مَعَ تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ. وَقَالَ أَبُو دَاوُدَ: لَيْسَ هُوَ بِصَحِيح على هَذَا الْمَعْنى
علقمہ ؒ بیان کرتے ہیں، ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز نہ پڑھاؤں، چنانچہ انہوں نے صرف نماز کے آغاز پر اللہ اکبر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے۔ ترمذی، ابوداؤد، نسائی، اور ابوداؤد نے فرمایا: اس معنی میں یہ حدیث صحیح نہیں۔ ضعیف۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «إسناده ضعيف، رواه الترمذي (257 وقال: حديث حسن) و أبو داود (748) والنسائي (2/ 195 ح 1059) ٭ و صححه ابن حزم و ضعفه ابن المبارک والشافعي والجمھور، و فيه سفيان الثوري وھو مدلس مشهور و عنعن و ھذه العلة وحدھا کافية لضعف الحديث والحق أنه حديث ضعيف و أخطأ من قال: ’’أنه حديث صحيح و إسناده صحيح علٰي شرط مسلم‘‘ و کيف يکون السند صحيحًا و فيه مدلس مشھور و کان يدلس عن الضعفاء والمجروحين و عنعن.!!»
--. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کرتے تھے
حدیث نمبر: 810
اعراب
وعن ابي حميد الساعدي قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة استقبل القبلة ورفع يديه وقال: الله اكبر. رواه ابن ماجه وَعَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ: الله أكبر. رَوَاهُ ابْن مَاجَه
ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھاتے اور ”اللہ اکبر“ کہتے۔ صحیح، رواہ ابن ماجہ۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «إسناده صحيح، رواه ابن ماجه (803) [وتقدم طرفه: 801]»
--. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غلط نماز پڑھنے پر تنبیہ فرمائی
حدیث نمبر: 811
اعراب
وعن ابي هريرة رضي الله عنه قال: صلى بنا رسول الله صلى الله عليه وسلم الظهر وفي مؤخر الصفوف رجل فاساء الصلاة فلما سلم ناداه رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا فلان الا تتقي الله؟ الا ترى كيف تصلي؟ إنكم ترون انه يخفى علي شيء مما تصنعون والله إني لارى من خلفي كما ارى من بين يدي» رواه احمد وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظّهْر وَفِي مُؤخر الصُّفُوف رجل فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ؟ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي؟ إِنَّكُمْ تُرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى من بَين يَدي» رَوَاهُ أَحْمد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں نماز ظہر پڑھائی، پچھلی صفوں میں کسی آدمی نے نماز میں خرابی کی، جب سلام پھیرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے بلایا: ”فلاں شخص! کیا تم اللہ سے نہیں ڈرتے، کیا تم نہیں دیکھتے کہ تم کیسی نماز پڑھتے ہو، کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کرتے ہو وہ مجھ پر مخفی رہتا ہے، اللہ کی قسم! میں جس طرح اپنے آگے دیکھتا ہوں ویسے ہی اپنے پیچھے دیکھتا ہوں۔ “ صحیح، رواہ احمد۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «صحيح، رواه أحمد (449/2 ح 9795) ٭ ابن إسحاق صرح بالسماع عند ابن خزيمة (474) و للحديث شواھد عند البخاري وغيره انظر (ح 869)»
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسكت بين التكبير وبين القراءة إسكاتة قال احسبه قال هنية فقلت بابي وامي يا رسول الله إسكاتك بين التكبير والقراءة ما تقول قال: «اقول اللهم باعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب اللهم نقني من الخطايا كما ينقى الثوب الابيض من الدنس اللهم اغسل خطاياي بالماء والثلج والبرد» عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يسكت بَين التَّكْبِير وَبَين الْقِرَاءَة إسكاتة قَالَ أَحْسبهُ قَالَ هنيَّة فَقلت بِأبي وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِسْكَاتُكَ بَيْنَ التَّكْبِيرِ وَالْقِرَاءَة مَا تَقُولُ قَالَ: «أَقُولُ اللَّهُمَّ بَاعِدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطَايَايَ كَمَا بَاعَدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ اللَّهُمَّ نَقِّنِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا يُنَقَّى الثَّوْبُ الْأَبْيَضُ مِنَ الدَّنَسِ اللَّهُمَّ اغْسِلْ خَطَايَايَ بِالْمَاءِ والثلج وَالْبرد»
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان کچھ دیر سکوت فرمایا کرتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والدین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہوں، آپ تکبیر تحریمہ اور قراءت کے درمیان جو سکوت فرماتے ہیں اس میں کیا پڑھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”میں یہ دعا پڑھتا ہوں: اے اللہ! میرے اور میرے گناہوں کے درمیان ایسے دوری ڈال دے جیسے تو نے مشرق و مغرب کے مابین دوری ڈالی ہے، اے للہ! مجھے گناہوں سے ایسے پاک صاف کر دے جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے، اے اللہ! میرے گناہوں کو پانی، برف اور اولوں سے دھو دے۔ “
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «متفق عليه، رواه البخاري (744) و مسلم (147/ 598)»
وعن علي بن ابي طالب رضي الله عنه قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلاة وفي رواية: كان إذا افتتح الصلاة كبر ثم قال: «وجهت وجهي للذي فطر السماوات والارض حنيفا وما انا من المشركين إن صلاتي ونسكي ومحياي ومماتي لله رب العالمين لا شريك له وبذلك امرت وانا من المسلمين اللهم انت الملك لا إله إلا انت انت ربي وانا عبدك ظلمت نفسي واعترفت بذنبي فاغفر لي ذنوبي جميعا إنه لا يغفر الذنوب إلا انت واهدني لاحسن الاخلاق لا يهدي لاحسنها إلا انت واصرف عني سيئها لا يصرف عني سيئها إلا انت لبيك وسعديك والخير كله في يديك والشر ليس إليك انا بك وإليك تباركت وتعاليت استغفرك واتوب إليك» وإذا ركع قال: «اللهم لك ركعت وبك آمنت ولك اسلمت خشع لك سمعي وبصري ومخي وعظمي وعصبي» فإذا رفع قال: «اللهم ربنا لك الحمد ملء السماوات وملء الارض وملء ما بينهما وملء ما شئت من شيء بعد» وإذا سجد قال: «اللهم لك سجدت وبك آمنت ولك اسلمت سجد وجهي للذي خلقه وصوره وشق سمعه وبصره تبارك الله احسن الخالقين» ثم يكون من آخر ما يقول بين التشهد والتسليم: «اللهم اغفر لي ما قدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وما انت اعلم به مني انت المقدم وانت المؤخر لا إله إلا انت» . رواه مسلم وفي رواية للشافعي: «والشر ليس إليك والمهدي من هديت انا بك وإليك لا منجى منك ولا ملجا إلا إليك تباركت» وَعَنْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ وَفِي رِوَايَةً: كَانَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ كَبَّرَ ثُمَّ قَالَ: «وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أَمَرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» وَإِذَا رَكَعَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ رَكَعْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ خَشَعَ لَكَ سَمْعِي وبصري ومخي وعظمي وعصبي» فَإِذا رفع قَالَ: «اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وملء الأَرْض وملء مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ» وَإِذَا سَجَدَ قَالَ: «اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصُوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ» ثُمَّ يَكُونُ مِنْ آخِرِ مَا يَقُولُ بَيْنَ التَّشَهُّدِ وَالتَّسْلِيمِ: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ» . رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَفِي رِوَايَةٍ لِلشَّافِعِيِّ: «وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ أَنَا بِكَ وَإِلَيْك لَا مَنْجَى مِنْكَ وَلَا مَلْجَأَ إِلَّا إِلَيْكَ تَبَارَكْتَ»
علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، جب نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کا ارادہ فرماتے، اور ایک روایت میں ہے: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز شروع کیا کرتے تو تکبیر کہہ کر یہ دعا پڑھا کرتے: ”میں نے یکسو ہو کر اپنے چہرے کو اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے زمین و آسمان کو عدم سے تخلیق فرمایا، اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں، بے شک میری نماز، میری قربانی، میرا جینا اور میرا مرنا دونوں جہاں کے رب، اللہ کے لیے ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں (اطاعت گزاروں) میں سے ہوں، اے اللہ! تو مالک ہے، تو میرا رب ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنی جان پر ظلم کیا، میں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا، پس تو میرے سارے گناہ معاف کر دے، کیونکہ تیرے سوا کوئی گناہ بخش نہیں سکتا، بہترین اخلاق کی طرف میری راہنمائی فرما، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی راہنمائی کر سکتا ہے، برے اخلاق مجھ سے دور کر دے، کیونکہ صرف تو ہی برے اخلاق مجھ سے دور کر سکتا ہے، میں تیری عبادت پر قائم ہوں اور یہ میرے لیے باعث سعادت ہے، تمام خیرو بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے، جبکہ برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی، میں تیرے حکم و توفیق سے ہوں اور لوٹ کر تیری ہی طرف آنا ہے، تو برکت والا بلند شان والا ہے، میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں۔ “ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رکوع کرتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے رکوع کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری اطاعت اختیار کی، میرے کان، میری آنکھیں، میرا دماغ، میری ہڈیوں اور میرے اعصاب نے تیرے لیے ہی تواضع اختیار کی۔ “ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (رکوع سے) سر اٹھاتے تو یہ دعا پڑھتے: ”اے اللہ! ہمارے رب! ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے جس سے آسمان و زمین اور جو اس کے درمیان ہے بھر جائے، اور اس کے بعد اس چیز کے بھراؤ کے برابر جو تو چاہے۔ “ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سجدہ کرتے تو یہ دعا کرتے: ”اے اللہ! میں نے تیرے لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیری اطاعت اختیار کی، میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا فرمایا، اس کی تصویر و صورت بنائی، اس کو سمع و بصر سے نوازا، برکت والا اللہ بہترین تخلیق کرنے والا ہے۔ “ پھر آخر پر تشہد اور سلام پھیرنے کے درمیان یہ دعا کرتے: ”اے اللہ! تو میرے اگلے پچھلے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ اور جو میں نے زیادتی کی اور وہ گناہ جن کے متعلق تو مجھ سے بھی زیادہ جانتا ہے، سب معاف فرما، تو ہی ترقی دینے والا اور تو ہی تنزلی کی جانب لے جانے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ “ اور شافعی ؒ کی روایت میں ہے: ”اور برائی تیری طرف منسوب نہیں کی جا سکتی، ہدایت والا وہ ہے جسے تو ہدایت عطا فرمائے، میں تیری توفیق سے ہوں اور میرا لوٹنا بھی تیری ہی طرف ہے، نجات و پناہ صرف تجھ سے مل سکتی ہے، تو برکت والا ہے۔ “ رواہ مسلم۔
تحقيق و تخريج الحدیث: محدث العصر حافظ زبير على زئي رحمه الله: «813 رواه مسلم (201 / 771) والشافعي في الأم (1/ 106 وسنده صحيح)»