(مرفوع) اخبرنا محمد بن منصور، قال: حدثنا سفيان، عن عمرو، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، ان رجلا اتى النبي صلى الله عليه وسلم وقد اهل بعمرة، وعليه مقطعات وهو متضمخ بخلوق، فقال: اهللت بعمرة فما اصنع، فقال النبي صلى الله عليه وسلم:" ما كنت صانعا في حجك" قال: كنت اتقي هذا واغسله، فقال:" ما كنت صانعا في حجك فاصنعه في عمرتك". (مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَعَلَيْهِ مُقَطَّعَاتٌ وَهُوَ مُتَضَمِّخٌ بِخَلُوقٍ، فَقَالَ: أَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ فَمَا أَصْنَعُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ" قَالَ: كُنْتُ أَتَّقِي هَذَا وَأَغْسِلُهُ، فَقَالَ:" مَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجِّكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص عمرہ کا احرام باندھے ہوئے، سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے اور خلوق لگائے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، وہ عمرہ کا احرام باندھے اور سلے ہوئے کپڑے پہنے ہوئے تھا، اور خلوق میں لت پت تھا، تو اس نے عرض کیا: میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے تو میں کیا کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہی کرو جو حج میں کرتے ہو“، اس نے کہا: میں (حج میں) اس سے بچتا تھا، اور اسے دھو ڈالتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو تم حج میں کرتے تھے وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔
تخریج الحدیث: «انظر حدیث رقم: 2669 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”خلوق“ ایک معروف خوشبو ہے جو زعفران ملا کر بنائی جاتی ہے۔
(مرفوع) اخبرني محمد بن إسماعيل بن إبراهيم، قال: حدثنا وهب بن جرير، قال: حدثنا ابي، قال: سمعت قيس بن سعد يحدث، عن عطاء، عن صفوان بن يعلى، عن ابيه، قال: اتى رسول الله صلى الله عليه وسلم رجل وهو بالجعرانة وعليه جبة وهو مصفر لحيته وراسه، فقال: يا رسول الله إني احرمت بعمرة وانا كما ترى فقال:" انزع عنك الجبة، واغسل عنك الصفرة، وما كنت صانعا في حجتك فاصنعه في عمرتك". (مرفوع) أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ قَيْسَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ بِالْجِعِرَّانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَهُوَ مُصَفِّرٌ لِحْيَتَهُ وَرَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَحْرَمْتُ بِعُمْرَةٍ وَأَنَا كَمَا تَرَى فَقَالَ:" انْزِعْ عَنْكَ الْجُبَّةَ، وَاغْسِلْ عَنْكَ الصُّفْرَةَ، وَمَا كُنْتَ صَانِعًا فِي حَجَّتِكَ فَاصْنَعْهُ فِي عُمْرَتِكَ".
یعلیٰ بن امیہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ جعرانہ میں تھے، وہ جبہ پہنے ہوئے تھا، اور اپنی داڑھی اور سر کو (زعفران سے) پیلا کیے ہوئے تھا۔ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے عمرے کا احرام باندھ رکھا ہے اور میں جس طرح ہوں آپ مجھے دیکھ رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبہ اتار دو اور زردی اپنے سے دھو ڈالو، اور جو حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرہ میں بھی کرو“۔
عثمان رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محرم کے بارے میں فرمایا: ”جب اس کے سر میں درد ہو یا آنکھیں دکھیں تو ایلوا کا لیپ کر لے“۱؎۔
(مرفوع) اخبرنا محمد بن المثنى، قال: حدثنا يحيى بن سعيد، عن جعفر بن محمد، قال: حدثني ابي، قال: اتينا جابرا فسالناه عن حجة النبي صلى الله عليه وسلم فحدثنا , ان رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال:" لو استقبلت من امري ما استدبرت، لم اسق الهدي وجعلتها عمرة فمن لم يكن معه هدي فليحلل، وليجعلها عمرة" , وقدم علي رضي الله عنه من اليمن بهدي وساق رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة هديا وإذا فاطمة قد لبست ثيابا صبيغا واكتحلت، قال: فانطلقت محرشا استفتي رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله إن فاطمة لبست ثيابا صبيغا واكتحلت وقالت امرني به ابي صلى الله عليه وسلم، قال:" صدقت، صدقت، صدقت، انا امرتها". (مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: أَتَيْنَا جَابِرًا فَسَأَلْنَاهُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَنَا , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ، لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ وَجَعَلْتُهَا عُمْرَةً فَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُحْلِلْ، وَلْيَجْعَلْهَا عُمْرَةً" , وَقَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ الْيَمَنِ بِهَدْيٍ وَسَاقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْمَدِينَةِ هَدْيًا وَإِذَا فَاطِمَةُ قَدْ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ مُحَرِّشًا أَسْتَفْتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ لَبِسَتْ ثِيَابًا صَبِيغًا وَاكْتَحَلَتْ وَقَالَتْ أَمَرَنِي بِهِ أَبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، صَدَقَتْ، أَنَا أَمَرْتُهَا".
محمد الباقر کہتے ہیں کہ ہم جابر (جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما) کے پاس آئے، اور ان سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق پوچھا تو انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر مجھے پہلے معلوم ہو گیا ہوتا جو اب معلوم ہوا تو میں ہدی (کا جانور) لے کر نہ آتا اور اسے عمرہ میں تبدیل کر دیتا (اور طواف و سعی کر کے احرام کھول دیتا) تو جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ احرام کھول ڈالے، اور اسے عمرہ قرار دے لے“(اسی موقع پر) علی رضی اللہ عنہ یمن سے ہدی (کے اونٹ) لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے لے کر گئے۔ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا نے جب رنگین کپڑے پہن لیے اور سرمہ لگا لیا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تو غصہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھنے گیا۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! فاطمہ نے تو رنگین کپڑے پہن رکھے ہیں اور سرمہ لگا رکھا ہے اور کہتی ہیں: میرے ابا جان صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا ہے؟، آپ نے فرمایا: ”اس نے سچ کہا، اس نے، سچ کہا، میں نے ہی اسے حکم دیا ہے“۔
(مرفوع) اخبرنا محمد بن بشار، قال: حدثنا محمد، قال: حدثنا شعبة , قال: سمعت ابا بشر يحدث، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس , ان رجلا وقع عن راحلته فاقعصته، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" اغسلوه بماء وسدر، ويكفن في ثوبين خارجا راسه ووجهه، فإنه يبعث يوم القيامة ملبيا". (مرفوع) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بِشْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّ رَجُلًا وَقَعَ عَنْ رَاحِلَتِهِ فَأَقْعَصَتْهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَيُكَفَّنُ فِي ثَوْبَيْنِ خَارِجًا رَأْسُهُ وَوَجْهُهُ، فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی سواری سے گر پڑا تو سواری نے اسے کچل کر ہلاک کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتوں سے غسل دو، اور اسے دو کپڑوں میں کفنایا جائے، اور اس کا سر اور چہرہ کھلا رکھا جائے کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا“۔
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص (حالت احرام میں) مر گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے پانی اور بیر کے پتے سے غسل دو اور اسے اس کے کپڑوں ہی میں کفنا دو، اور اس کے سر اور چہرے کونہ ڈھانپو کیونکہ قیامت کے دن وہ لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔“
وضاحت: ۱؎: حج کی تین قسمیں ہیں: افراد، قران اور تمتع، حج افراد: یہ ہے کہ صرف حج کی نیت سے احرام باندھے اور حج قران یہ ہے کہ حج اور عمرہ دونوں کی ایک ساتھ نیت کرے اور ساتھ میں ہدی کا جانور بھی لے اور حج تمتع یہ ہے کہ حج کے مہینے میں میقات سے صرف عمر ے کی نیت کرے پھر مکہ میں جا کر عمرہ کی ادائیگی کے بعد احرام کھول دے اور پھر آٹھویں تاریخ کو مکہ سے نئے سرے سے حج کا احرام باندھے۔
(مرفوع) اخبرنا يحيى بن حبيب بن عربي، عن حماد، عن هشام، عن ابيه، عن عائشة، قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم موافين لهلال ذي الحجة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم:" من شاء ان يهل بحج، فليهل، ومن شاء ان يهل بعمرة فليهل بعمرة". (مرفوع) أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِحَجٍّ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ".
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس حال میں نکلے کہ (چند دنوں کے بعد) ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھنے ہی والے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو حج کا احرام باندھنا چاہے حج کا احرام باندھ لے، اور جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے“۱؎۔