حدثنا عبد الله، حدثني محمد ، حدثنا عمرو ، حدثنا اسباط ، عن سماك ، عن جابر بن سمرة ، عمن حدثه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، انه قال: " لا يزال هذا الدين قائما، يقاتل عليه عصابة من المسلمين حتى تقوم الساعة" .حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا، يُقَاتِلُ عَلَيْهِ عِصَابَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ" .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ دین ہمیشہ قائم رہے گا اور ایک جماعت اس کے لئے قتال کرتی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
حدثنا عبد الله، حدثني يحيى بن عبد الله مولى بني هاشم سنة تسع وعشرين ومائتين، حدثنا شعبة ، عن سماك ، عن جابر بن سمرة ، قال: رايت " الخاتم بين كتفي النبي صلى الله عليه وسلم كانه بيضة" .حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ سَنَةَ تِسْعٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: رَأَيْتُ " الْخَاتَمَ بَيْنَ كَتِفَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَأَنَّهُ بَيْضَةٌ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی پشت مبارک پر مہر نبوت دیکھی ہے وہ کبوتری کے انڈے جتنی تھی۔
حكم دارالسلام: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، يحيى بن عبدالله ضعيف
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابودحداح کی نماز جنازہ پڑھائی ہم ان کے ہمراہ تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھوڑے پر سوار تھے جو بدکنے لگا یہ دیکھ کر ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دوڑنے لگے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، م: 965، وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيي بن عبدالله
حدثنا عبد الله، حدثني يحيى بن عبد الله ، حدثنا شعبة ، عن سماك ، قال: سمعت جابر بن سمرة ، يقول: اتى ماعز بن مالك إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: إني زنيت، " فرده مرتين، ثم رجمه" .حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ ، يَقُولُ: أَتَى مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي زَنَيْتُ، " فَرَدَّهُ مَرَّتَيْنِ، ثُمَّ رَجَمَهُ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حضرت ماعز بن مالک آیا اور کہنے لگا کہ میں نے بدکاری کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اسے واپس بھیجا پھر انہیں رجم کردیا۔
حدثنا عبد الله، حدثني ابو الربيع الزهراني سليمان بن داود ، وعبيد الله بن عمر القواريري ، ومحمد بن ابي بكر المقدمي ، قالوا: حدثنا حماد بن زيد ، حدثنا مجالد بن سعيد ، عن الشعبي ، عن جابر بن سمرة ، قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفات، وقال المقدمي في حديثه: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب بمنى، وهذا لفظ حديث ابي الربيع فسمعته يقول: " لن يزال هذا الامر عزيزا ظاهرا حتى يملك اثنا عشر كلهم"، ثم لغط القوم وتكلموا، فلم افهم قوله بعد" كلهم"، فقلت لابي يا ابتاه، ما بعد" كلهم"؟ قال:" كلهم من قريش"، وقال القواريري في حديثه:" لا يضره من خالفه او فارقه حتى يملك اثنا عشر" .حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، وَقَالَ الْمُقَدَّمِيُّ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ بِمِنًى، وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي الرَّبِيعِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " لَنْ يَزَالَ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا ظَاهِرًا حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ كُلُّهُمْ"، ثُمَّ لَغَطَ الْقَوْمُ وَتَكَلَّمُوا، فَلَمْ أَفْهَمْ قَوْلَهُ بَعْدَ" كُلُّهُمْ"، فَقُلْتُ لِأَبِي يَا أَبَتَاهُ، مَا بَعْدَ" كُلُّهُمْ"؟ قَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ"، وَقَالَ الْقَوَارِيرِيُّ فِي حَدِيثِهِ:" لَا يَضُرُّهُ مَنْ خَالَفَهُ أَوْ فَارَقَهُ حَتَّى يَمْلِكَ اثْنَا عَشَرَ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے
حكم دارالسلام: حديث صحيح، م: 1821، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد، وقد توبع
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزر جائیں گے
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسری ہلاک ہوجائے تو اس کے بعد کوئی کسری نہ آسکے گا اور جب قیصر ہلاک ہوجائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں آسکے گا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے تم ان دونوں کے خزانے اللہ کے راستہ میں خرچ کرو گے وہ وقت ضرور آئے گا۔
حدثنا عبد الله، حدثني سريج بن يونس ، عن عمر بن عبيد ، عن سماك بن حرب ، عن جابر بن سمرة ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول:" يكون من بعدي اثنا عشر اميرا"، فتكلم فخفي علي، فسالت الذي يليني، او إلى جنبي، فقال:" كلهم من قريش" .حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنِي سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" يَكُونُ مِنْ بَعْدِي اثْنَا عَشَرَ أَمِيرًا"، فَتُكُلِّمَ فَخَفِيَ عَلَيَّ، فَسَأَلْتُ الَّذِي يَلِينِي، أَوْ إِلَى جَنْبِي، فَقَالَ:" كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ" .
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حجۃ الوداع کے موقع پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ دین ہمیشہ اپنے مخالفین پر غالب رہے گا اسے کوئی مخالفت کرنے والا یا مفارقت کرنے والا نقصان نہ پہنچاسکے گا یہاں تک کہ میری امت میں بارہ خلیفہ گزرجائیں گے پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ کہا جو میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے وہ سب کے سب قریش سے ہونگے۔
حكم دارالسلام: حديث صحيح، خ: 7222، م: 1821، وهذا إسناد حسن