مسند احمد کل احادیث 27647 :حدیث نمبر
مسند احمد
حدیث نمبر: 19471
Save to word اعراب
حدثنا روح ، حدثنا زكريا بن إسحاق ، اخبرنا إبراهيم بن ميسرة ، انه سمع يعقوب بن عاصم بن عروة ، يقول: سمعت الشريد قال: اشهد لافضت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فما مست قدماه الارض حتى اتى جمعا، وقال مرة: لوقفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بعرفات، فما مست... . قال عبد الله: قال ابي: حيث قال روح: وقفت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، املاه من كتابه.حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ الشَّرِيدَ قَالَ: أَشْهَدُ لَأَفَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَا مَسَّتْ قَدَمَاهُ الْأَرْضَ حَتَّى أَتَى جَمْعًا، وَقَالَ مَرَّةً: لَوَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ، فَمَا مَسَّتْ... . قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: حَيْثُ قَالَ رَوْحٌ: وَقَفْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَمْلَاهُ مِنْ كِتَابِهِ.
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں گواہی دیتاہوں کہ میں نے عرفات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ وقوف کیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم زمین پر نہیں لگے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ پہنچ گئے۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19472
Save to word اعراب
حدثنا روح ، حدثنا زكريا بن إسحاق ، حدثنا إبراهيم بن ميسرة ، انه سمع عمرو بن الشريد يحدث، عن ابيه ، ان النبي صلى الله عليه وسلم تبع رجلا من ثقيف، حتى هرول في اثره، حتى اخذ ثوبه، فقال:" ارفع إزارك"، قال: فكشف الرجل عن ركبتيه، فقال: يا رسول الله، إني احنف، وتصطك ركبتاي، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " كل خلق الله عز وجل حسن"، قال: ولم ير ذلك الرجل إلا وإزاره إلى انصاف ساقيه، حتى مات .حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبِعَ رَجُلًا مِنْ ثَقِيفٍ، حَتَّى هَرْوَلَ فِي أَثَرِهِ، حَتَّى أَخَذَ ثَوْبَهُ، فَقَالَ:" ارْفَعْ إِزَارَكَ"، قَالَ: فَكَشَفَ الرَّجُلُ عَنْ رُكْبَتَيْهِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي أَحْنَفُ، وَتَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُلُّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ"، قَالَ: وَلَمْ يُرَ ذَلِكَ الرَّجُلُ إِلَّا وَإِزَارُهُ إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ، حَتَّى مَاتَ .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19473
Save to word اعراب
حدثنا روح ، حدثنا زكريا ، حدثنا إبراهيم بن ميسرة ، انه سمع عمرو بن الشريد يقول: بلغنا ان رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل وهو راقد على وجهه، فقال: " هذا ابغض الرقاد إلى الله عز وجل" .حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الشَّرِيدِ يَقُولُ: بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلَى رَجُلٍ وَهُوَ رَاقِدٌ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: " هَذَا أَبْغَضُ الرُّقَادِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو چہرے کے بل لیٹے ہوئے دیکھا تو فرمایا اللہ کے نزدیک لیٹنے کا یہ طریقہ سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہے۔

حكم دارالسلام: حسن لغيره، وهذا إسناد مرسل
حدیث نمبر: 19474
Save to word اعراب
حدثنا هشيم بن بشير ، عن يعلى بن عطاء ، عن عمرو بن الشريد ، عن ابيه ، قال: كان في وفد ثقيف رجل مجذوم، فارسل إليه النبي صلى الله عليه وسلم: " ارجع، فقد بايعتك" .حَدَّثَنَا هُشَيْمُ بْنُ بَشِيرٍ ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ فِي وَفْدِ ثَقِيفٍ رَجُلٌ مَجْذُومٌ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْجِعْ، فَقَدْ بَايَعْتُكَ" .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ ثقیف کا ایک جذامی آدمی (کوڑھ کے مرض میں مبتلا) بیعت کرنے کے لئے آیا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر اس کا ذکر کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس کے پاس جا کر کہو کہ میں نے اسے بیعت کرلیا ہے اس لئے وہ واپس چلاجائے۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2231
حدیث نمبر: 19475
Save to word اعراب
حدثنا سفيان بن عيينة ، عن إبراهيم بن ميسرة ، عن عمرو ابن الشريد ، عن ابيه او: عن يعقوب بن عاصم ، انه سمع الشريد يقول: ابصر رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا يجر إزاره، فاسرع إليه او: هرول، فقال: " ارفع إزارك، واتق الله"، قال: إني احنف، تصطك ركبتاي، فقال:" ارفع إزارك، فإن كل خلق الله عز وجل حسن"، فما رئي ذلك الرجل بعد إلا إزاره يصيب انصاف ساقيه، او: إلى انصاف ساقيه .حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ أَوْ: عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ الشَّرِيدَ يَقُولُ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَجُرُّ إِزَارَهُ، فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ أَوْ: هَرْوَلَ، فَقَالَ: " ارْفَعْ إِزَارَكَ، وَاتَّقِ اللَّهَ"، قَالَ: إِنِّي أَحْنَفُ، تَصْطَكُّ رُكْبَتَايَ، فَقَالَ:" ارْفَعْ إِزَارَكَ، فَإِنَّ كُلَّ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ حَسَنٌ"، فَمَا رُئِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ بَعْدُ إِلَّا إِزَارُهُ يُصِيبُ أَنْصَافَ سَاقَيْهِ، أَوْ: إِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبیلہ ثقیف کے ایک آدمی کے پیچھے چلے حتیٰ کہ اس کے پیچھے دوڑ پڑے اور اس کا کپڑا پکڑ کر فرمایا اپنا تہبند اوپر کرو، اس نے اپنے گھٹنوں سے کپڑا ہٹا کر عرض کیا یا رسول اللہ! میرے پاؤں ٹیڑھے ہیں اور چلتے ہوئے میرے گھٹنے ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی ہر تخلیق بہترین ہے، راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد مرتے دم تک اس شخص کو جب بھی دیکھا گیا اس کا تہبند نصف پنڈلی تک ہی رہا۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 19476
Save to word اعراب
حدثنا سفيان ، عن إبراهيم بن ميسرة ، عن عمرو بن الشريد ، عن ابيه إن شاء الله او: يعقوب بن عاصم يعني عن الشريد ، قال عبد الله: كذا حدثناه ابي، قال: اردفني رسول الله صلى الله عليه وسلم خلفه، فقال: " هل معك من شعر امية شيء؟"، قلت: نعم، قال:" انشدني"، فانشدته بيتا، فقال:" هيه"، فلم يزل يقول:" هيه"، حتى انشدته مئة بيت .حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ ، عَن أَبِيهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَوْ: يَعْقُوبَ بْنِ عَاصِمٍ يَعْنِي عَنِ الشَّرِيدِ ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: كَذَا حَدَّثَنَاهُ أَبِي، قَالَ: أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَلْفَهُ، فَقَالَ: " هَلْ مَعَكَ مِنْ شِعْرِ أُمَيَّةَ شَيْءٌ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" أَنْشِدْنِي"، فَأَنْشَدْتُهُ بَيْتًا، فَقَالَ:" هِيهْ"، فَلَمْ يَزَلْ يَقُولُ:" هِيهْ"، حَتَّى أَنْشَدْتُهُ مِئَةَ بَيْتٍ .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے امیہ بن ابی صلت کے اشعار سنانے کو کہا میں اشعار سنانے لگا جب بھی ایک شعر سناتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اور سناؤ حتیٰ کہ میں نے سو شعر سنا ڈالے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قریب تھا کہ امیہ مسلمان ہوجاتا۔

حكم دارالسلام: إسناده صحيح، م: 2255
حدیث نمبر: 19477
Save to word اعراب
حدثنا يحيى بن سعيد ، عن حسين المعلم ، حدثنا عمرو بن شعيب ، حدثني عمرو بن الشريد ، عن ابيه الشريد بن سويد ، قال: قلت: يا رسول الله، ارض ليس لاحد فيها شريك، ولا قسم، إلا الجوار؟ قال: " الجار احق بسقبه ما كان" .حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الشَّرِيدِ ، عَنْ أَبِيهِ الشَّرِيدِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرْضٌ لَيْسَ لِأَحَدٍ فِيهَا شَرِيكٌ، وَلَا قَسْمٌ، إِلَّا الْجِوَارَ؟ قَالَ: " الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ مَا كَانَ" .
حضرت شرید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی زمین ایسی ہو جس میں کسی کی شرکت یا تقسیم نہ ہو سوائے پڑوسی کے تو کیا حکم ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پڑوسی شفعہ کا حق رکھتا ہے جب بھی ہو۔

حكم دارالسلام: حديث صحيح
حدیث نمبر: 19478
Save to word اعراب
حدثنا عبد الرزاق ، اخبرنا معمر ، عن الزهري ، عن عبد الله ابن عبيد الله بن ثعلبة الانصاري ، عن عبد الله بن زيد الانصاري ، عن مجمع بن جارية ، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: " ليقتلن ابن مريم الدجال بباب لد" او:" إلى جانب لد" .حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَيَقْتُلَنَّ ابْنُ مَرْيَمَ الدَّجَّالَ بِبَاب لُدٍّ" أَوْ:" إِلَى جَانِبِ لُدٍّ" .
حضرت مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دجال کو حضرت عیسیٰ " باب لد " نامی جگہ پر قتل کریں گے۔

حكم دارالسلام: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، عبد الله بن عبيد الله بن ثعلبة مجهول
حدیث نمبر: 19479
Save to word اعراب
حدثنا هشيم ، اخبرنا يعلى بن عطاء ، عن عمارة بن حديد ، عن صخر الغامدي ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " اللهم بارك لامتي في بكورها"، قال: وكان إذا بعث سرية، او جيشا، بعثهم من اول النهار، قال: وكان صخر رجلا تاجرا، فكان يبعث تجارته من اول النهار، قال: فاثرى وكثر ماله .حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَدِيدٍ ، عَنْ صَخْرٍ الْغَامِدِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا"، قَالَ: وَكَانَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، أَوْ جَيْشًا، بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، فَكَانَ يَبْعَثُ تِجَارَتَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: فَأَثْرَى وَكَثُرَ مَالُهُ .
حضرت صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں؟

حكم دارالسلام: حديث ضعيف دون قوله: اللهم بارك لأمتي فى بكورها فهو حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمارة بن حديد
حدیث نمبر: 19480
Save to word اعراب
حدثنا عفان ، حدثنا شعبة ، قال: يعلى بن عطاء انباني، قال: سمعت عمارة بن حديد ، رجلا من بجيلة، قال: سمعت صخرا الغامدي رجلا من الازد، يقول: إن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: " اللهم بارك لامتي في بكورها"، قال: وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا بعث سرية، بعثهم من اول النهار، وكان صخر رجلا تاجرا، وكان له غلمان، فكان يبعث غلمانه من اول النهار، قال: فكثر ماله، حتى كان لا يدري اين يضعه .حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ أَنْبَأَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ حَدِيدٍ ، رَجُلًا مِنْ بَجِيلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ صَخْرًا الْغَامِدِيَّ رَجُلًا مِنَ الْأَزْدِ، يَقُولُ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لِأُمَّتِي فِي بُكُورِهَا"، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا بَعَثَ سَرِيَّةً، بَعَثَهُمْ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، وَكَانَ صَخْرٌ رَجُلًا تَاجِرًا، وَكَانَ لَهُ غِلْمَانٌ، فَكَانَ يَبْعَثُ غِلْمَانَهُ مِنْ أَوَّلِ النَّهَارِ، قَالَ: فَكَثُرَ مَالُهُ، حَتَّى كَانَ لَا يَدْرِي أَيْنَ يَضَعُهُ .
حضرت صخر غامدی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعاء فرماتے تھے کہ اے اللہ میری امت کے پہلے اوقات میں برکت فرما خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی لشکر روانہ فرماتے تھے کہ اس لشکر کو دن کے ابتدائی حصے میں بھیجتے تھے اور راوی حدیث حضرت صخر رضی اللہ عنہ تاجر آدمی تھے یہ بھی اپنے نوکروں کو صبح سویرے ہی بھیجتے تھے نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے پاس مال و دولت کی اتنی کثرت ہوگئی کہ انہیں یہ سمجھ نہیں آتا تھا کہ اپنا مال و دولت کہاں رکھیں؟

حكم دارالسلام: حديث ضعيف، راجع ما قبله

Previous    73    74    75    76    77    78    79    80    81    Next    

https://islamicurdubooks.com/ 2005-2024 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to https://islamicurdubooks.com will be appreciated.