تفسیر احسن البیان

سورة الروم
وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ[12]
اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو گناہگار حیرت زدہ رہ جائیں گے 1۔[12]
تفسیر احسن البیان
12-1ابلاس کے معنی ہیں اپنے موقف کے اثبات میں کوئی دلیل پیش نہ کرسکنا اور حیران و ساکت کھڑے رہنا اسی کو ناامیدی کے مفہوم سے تعبیر کرلیتے ہیں۔ اس اعتبار سے مبلس وہ ہوگا جو ناامید ہو کر خاموش کھڑا ہو اور اسے کوئی دلیل نہ سوجھ رہی ہو قیامت والے دن کافروں اور مشرکوں کا یہی حال ہوگا، یعنی کہ عذاب کے بعد وہ ہر خبر سے مایوس اور دلیل و حجت پیش کرنے سے قاصر ہونگے۔ مجرموں سے مراد کافر و مشرکین ہیں جیسے کہ اگلی آیت میں واضح ہے