تفسیر ابن کثیر

سورة الإسراء/بني اسرائيل
وَإِنْ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا كَانَ ذَلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا[58]
اور کوئی بھی بستی نہیں مگر ہم قیامت کے دن سے پہلے اسے ہلاک کرنے والے ہیں، یا اسے عذاب دینے والے ہیں، بہت سخت عذاب۔ یہ (بات) ہمیشہ سے کتاب میں لکھی ہوئی ہے۔[58]
تفسیر ابن کثیر، تفسیر آیت/آیات، 58،

باب

وہ نوشتہ جو لوح محفوظ میں لکھ دیا گیا ہے وہ حکم جو جاری کر دیا گیا ہے، اس کا بیان اس آیت میں ہے کہ گنہگاروں کی بستیاں یقیناً ویران کر دی جائیں گی یا ان کے گناہوں کی وجہ سے تباہی کے قریب ہو جائیں گی، اس میں ہماری جانب سے کوئی ظلم نہ ہو گا بلکہ ان کے اپنے کرتوت کا خمیازہ ہو گا، ان کے اپنے اعمال کا وبال ہو گا، رب کی آیتوں اور اس کے رسولوں سے سرکشی کرنے کا پھل ہو گا۔