قرآن پاک لفظ وَإِنَّ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر لفظ آیت ترجمہ
61
وَإِنَّ
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ [37-الصافات:139]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور بلاشبہ یونس (علیہ السلام) نبیوں میں سے تھے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور یونس بھی پیغمبروں میں سے تھے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ یونس یقینا رسولوں میں سے تھا۔
62
وَإِنَّ
وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ [37-الصافات:173]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ہمارا ہی لشکر غالب (اور برتر) رہے گا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہمارا لشکر غالب رہے گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بے شک ہمارا لشکر، یقینا وہی غالب آنے والا ہے ۔
63
وَإِنَّ
قَالَ لَقَدْ ظَلَمَكَ بِسُؤَالِ نَعْجَتِكَ إِلَى نِعَاجِهِ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ الْخُلَطَاءِ لَيَبْغِي بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَقَلِيلٌ مَا هُمْ وَظَنَّ دَاوُودُ أَنَّمَا فَتَنَّاهُ فَاسْتَغْفَرَ رَبَّهُ وَخَرَّ رَاكِعًا وَأَنَابَ [38-ص:24]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
آپ نے فرمایا! اس کا اپنی دنبیوں کے ساتھ تیری ایک دنبی ملا لینے کا سوال بیشک تیرے اوپر ایک ﻇلم ہے اور اکثر حصہ دار اور شریک (ایسے ہی ہوتے ہیں کہ) ایک دوسرے پر ﻇلم کرتے ہیں، سوائے ان کے جو ایمان ﻻئے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور ایسے لوگ بہت ہی کم ہیں اور (حضرت) داؤد (علیہ السلام) سمجھ گئے کہ ہم نے انہیں آزمایا ہے، پھر تو اپنے رب سے استغفار کرنے لگے اور عاجزی کرتے ہوئے گر پڑے اور (پوری طرح) رجوع کیا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
انہوں نے کہا کہ یہ جو تیری دنبی مانگتا ہے کہ اپنی دنبیوں میں ملالے بےشک تجھ پر ظلم کرتا ہے۔ اور اکثر شریک ایک دوسرے پر زیادتی ہی کیا کرتے ہیں۔ ہاں جو ایمان لائے اور عمل نیک کرتے رہے اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ اور داؤد نے خیال کیا کہ (اس واقعے سے) ہم نے ان کو آزمایا ہے تو انہوں نے اپنے پروردگار سے مغفرت مانگی اور جھک کر گڑ پڑے اور (خدا کی طرف) رجوع کیا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اس نے کہا بلاشبہ یقینا اس نے تیری دنبی کو اپنی دنبیو ںکے ساتھ ملانے کے مطالبے کے ساتھ تجھ پر ظلم کیا ہے اور بے شک بہت سے شریک یقینا ان کا بعض بعض پر زیادتی کرتا ہے، مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوںنے نیک اعمال کیے اور یہ لوگ بہت ہی کم ہیں۔ اور داؤد نے یقین کر لیا کہ بے شک ہم نے اس کی آزمائش ہی کی ہے تو اس نے اپنے رب سے بخشش مانگی اور رکوع کرتا ہوا نیچے گر گیا اور اس نے رجوع کیا۔
64
وَإِنَّ
فَغَفَرْنَا لَهُ ذَلِكَ وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ [38-ص:25]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
پس ہم نے بھی ان کا وه (قصور) معاف کر دیا، یقیناً وه ہمارے نزدیک بڑے مرتبہ والے اور بہت اچھے ٹھکانے والے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
تو ہم نے ان کو بخش دیا۔ اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قرب اور عمدہ مقام ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تو ہم نے اسے یہ بخش دیا اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے پاس یقینا بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔
65
وَإِنَّ
وَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا لَزُلْفَى وَحُسْنَ مَآبٍ [38-ص:40]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ان کے لئے ہمارے پاس بڑا تقرب ہے اور بہت اچھا ٹھکانا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور بےشک ان کے لئے ہمارے ہاں قُرب اور عمدہ مقام ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بلاشبہ اس کے لیے ہمارے ہاں یقینا بڑا قرب اور اچھا ٹھکانا ہے۔
66
وَإِنَّ
هَذَا ذِكْرٌ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِينَ لَحُسْنَ مَآبٍ [38-ص:49]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ نصیحت ہے اور یقین مانو کہ پرہیزگاروں کی بڑی اچھی جگہ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ نصیحت ہے اور پرہیزگاروں کے لئے تو عمدہ مقام ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ ایک نصیحت ہے اور بلاشبہ متقی لوگوں کے لیے یقینا اچھا ٹھکانا ہے۔
67
وَإِنَّ
هَذَا وَإِنَّ لِلطَّاغِينَ لَشَرَّ مَآبٍ [38-ص:55]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ تو ہوئی جزا، (یاد رکھو کہ) سرکشوں کے لئے بڑی بری جگہ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
یہ (نعمتیں تو فرمانبرداروں کے لئے ہیں) اور سرکشوں کے لئے برا ٹھکانا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ ہے (جزا) اور بلاشبہ سرکشوں کے لیے یقینا بد ترین ٹھکانا ہے۔
68
وَإِنَّ
وَإِنَّ عَلَيْكَ لَعْنَتِي إِلَى يَوْمِ الدِّينِ [38-ص:78]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت وپھٹکار ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور تجھ پر قیامت کے دن تک میری لعنت (پڑتی) رہے گی
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور بے شک تجھ پر جزا کے دن تک میری لعنت ہے۔
69
وَإِنَّ
يَا قَوْمِ إِنَّمَا هَذِهِ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا مَتَاعٌ وَإِنَّ الْآخِرَةَ هِيَ دَارُ الْقَرَارِ [40-غافر:39]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اے میری قوم! یہ حیات دنیا متاع فانی ہے، (یقین مانو کہ قرار) اور ہمیشگی کا گھر تو آخرت ہی ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
بھائیو یہ دنیا کی زندگی (چند روزہ) فائدہ اٹھانے کی چیز ہے۔ اور جو آخرت ہے وہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اے میری قوم! یہ دنیا کی زندگی تو معمولی فائدے کے سوا کچھ نہیں اور یقینا آخرت، وہی رہنے کا گھر ہے۔
70
وَإِنَّ
وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ [42-الشورى:14]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
ان لوگوں نے اپنے پاس علم آجانے کے بعد ہی اختلاف کیا (اور وه بھی) باہمی ضد بحﺚ سے اور اگر آپ کے رب کی بات ایک وقت مقرر تک کے لیے پہلے ہی سے قرار پا گئی ہوئی نہ ہوتی تو یقیناً ان کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب دی گئی ہے وه بھی اس کی طرف سے الجھن والے شک میں پڑے ہوئے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور یہ لوگ جو الگ الگ ہوئے ہیں تو علم (حق) آچکنے کے بعد آپس کی ضد سے (ہوئے ہیں) ۔ اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک وقت مقرر تک کے لئے بات نہ ٹھہر چکی ہوتی تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا۔ اور جو لوگ ان کے بعد (خدا کی) کتاب کے وارث ہوئے وہ اس (کی طرف) سے شبہے کی الجھن میں (پھنسے ہوئے) ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور وہ جدا جدا نہیںہوئے مگر اس کے بعد کہ ان کے پاس علم آگیا، آپس کی ضد کی وجہ سے اور اگر وہ بات نہ ہوتی جو تیرے رب کی طرف سے ایک مقر ر وقت تک پہلے طے ہو چکی تو ضرور ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اور بے شک وہ لوگ جو ان کے بعد اس کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کے متعلق یقینا ایسے شک میںمبتلا ہیںجو بے چین رکھنے والا ہے۔