قرآن پاک لفظ أَنْ کے تحت آنے والی قرآنی آیات
نمبر لفظ آیت ترجمہ
341
أَنْ
أَنْ أَرْسِلْ مَعَنَا بَنِي إِسْرَائِيلَ [26-الشعراء:17]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کہ تو ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو روانہ کردے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
(اور اس لئے آئے ہیں) کہ آپ بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
یہ کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دے۔
342
أَنْ
وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدْتَ بَنِي إِسْرَائِيلَ [26-الشعراء:22]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
مجھ پر تیرا کیا یہی وه احسان ہے؟ جسے تو جتا رہا ہے جبکہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور یہ کوئی احسان ہے جو تو مجھ پر جتلا رہا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔
343
أَنْ
يُرِيدُ أَنْ يُخْرِجَكُمْ مِنْ أَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ [26-الشعراء:35]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
یہ تو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سر زمین سے ہی نکال دے، بتاؤ اب تم کیا حکم دیتے ہو
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
جو چاہتا ہے کہ اپنے جادو کے ساتھ تمھیں تمھاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو؟
344
أَنْ
قَالَ آمَنْتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ [26-الشعراء:49]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
فرعون نے کہا کہ میری اجازت سے پہلے تم اس پر ایمان لے آئے؟ یقیناً یہی تمہارا وه بڑا (سردار) ہے جس نے تم سب کو جادو سکھایا ہے، سو تمہیں ابھی ابھی معلوم ہوجائے گا، قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
کہا تم اس پر ایمان لے آئے، اس سے پہلے کہ میں تمھیں اجازت دوں، بلاشبہ یہ ضرور تمھارا بڑا ہے جس نے تمھیں جادو سکھایا ہے، سو یقینا تم جلدی جان لوگے، میں ضرور ہر صورت تمھارے ہاتھ اور تمھارے پاؤں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا اور یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔
345
أَنْ
إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ [26-الشعراء:51]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک ہم لالچ رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے لیے ہماری خطائیں معاف کرے گا، اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔
346
أَنْ
إِنَّا نَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَنْ كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ [26-الشعراء:51]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
بے شک ہم لالچ رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمارے لیے ہماری خطائیں معاف کرے گا، اس لیے کہ ہم سب سے پہلے ایمان لانے والے بنے ہیں۔
347
أَنْ
وَأَوْحَيْنَا إِلَى مُوسَى أَنْ أَسْرِ بِعِبَادِي إِنَّكُمْ مُتَّبَعُونَ [26-الشعراء:52]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور ہم نے موسیٰ کو وحی کی کہ راتوں رات میرے بندوں کو نکال لے چل تم سب پیچھا کیے جاؤ گے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی بھیجی کہ ہمارے بندوں کو رات کو لے نکلو کہ (فرعونیوں کی طرف سے) تمہارا تعاقب کیا جائے گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور ہم نے موسیٰ کی طرف وحی کی کہ میرے بندوں کو رات کو لے چل، یقینا تمھارا پیچھا کیا جائے گا۔
348
أَنْ
وَالَّذِي أَطْمَعُ أَنْ يَغْفِرَ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ [26-الشعراء:82]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
اور جس سے امید بندھی ہوئی ہے کہ وه روز جزا میں میرے گناہوں کو بخش دے گا
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
اور وہ جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ قیامت کے دن میرے گناہ بخشے گا
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اور وہ جس سے میں طمع رکھتا ہوں کہ وہ جزا کے دن مجھے میری خطا بخش دے گا۔
349
أَنْ
أَوَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَمَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ [26-الشعراء:197]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
کیا انہیں یہ نشانی کافی نہیں کہ حقانیت قرآن کو تو بنی اسرائیل کے علماء بھی جانتے ہیں
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
کیا ان کے لئے یہ سند نہیں ہے کہ علمائے بنی اسرائیل اس (بات) کو جانتے ہیں
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
اورکیا ان کے لیے یہ ایک نشانی نہ تھی کہ اسے بنی اسرائیل کے علماء جانتے ہیں۔
350
أَنْ
فَلَمَّا جَاءَهَا نُودِيَ أَنْ بُورِكَ مَنْ فِي النَّارِ وَمَنْ حَوْلَهَا وَسُبْحَانَ اللَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ [27-النمل:8]
[ترجمہ محمد جوناگڑھی]
جب وہاں پہنچے تو آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وه جو اس آگ میں ہے اور برکت دیاگیا ہے وه جس کے آس پاس ہے اور پاک ہے اللہ جو تمام جہانوں کا پالنے واﻻ ہے
[ترجمہ فتح محمد جالندھری]
جب موسیٰ اس کے پاس آئے تو ندا آئی کہ وہ جو آگ میں (تجلّی دکھاتا) ہے بابرکت ہے۔ اور جو آگ کے اردگرد ہیں اور خدا جو تمام عالم کا پروردگار ہے پاک ہے
[ترجمہ محمد عبدالسلام بن محمد]
تو جب وہ اس کے پاس آیا تو اسے آواز دی گئی کہ بابرکت ہے وہ جو آگ میں ہے اور جو اس کے ارد گرد ہے اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔