جانب کے لیے ”جَانِب“ ، ”طَرْف“ ، ”وِجْهَة“ ، ”شَطْر“ ، ”تِلْقَائِي“ اور ”قِبَل“ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔
جَانِب
جَانِب اور جَنْب بمعنی پہلو ، طرف ، گوشہ ، سمت۔ اور اس کی جمع جَوَانِبْ ہے۔ سمتیں جہات یہ چھ ہیں۔ دائیں ، بائیں ، آگے ، پیچھے ، اوپر ، نیچے ، شمال ، مشرق ، مغرب ، جنوب وغیرہ۔ اور جانب وہ سمت ہے جس کا کسی کام کے وقت قریب ہونے سے تعلق ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَنَادَيْنَاهُ مِنْ جَانِبِ الطُّورِ الْأَيْمَنِ وَقَرَّبْنَاهُ نَجِيًّا
”اور ہم نے موسی علیہ السلام کو طور کی داہنی طرف سے پکارا اور باتیں کرنے کے لئے نزیک بلایا۔“
[19-مريم:52]
طَرْف
بمعنی کسی شے کی آخری حد یا کنارہ۔ ج اَطْرَاف سمت کے لئے طَرْف کا لفظ عربی میں مستعمل نہیں۔ البتہ اردو میں اس کا استعمال عام ہے قرآن کریم میں جہاں کہیں یہ لفظ استعمال ہوا ہے آخری حد یا کنارہ کے معنی میں آیا ہے۔ یا پھر حد نگاہ اور نگاہ کے لیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ
”اور دن کے دونوں سروں یعنی صبح شام کے اوقات میں اور رات کی چند پہلی ساعات میں نماز پڑھا کرو۔“
[11-هود:114]
وِجْھَة
وَجْهٌ بمعنی چہرہ اور کسی چیز کے سامنے کی طرف۔ وَجْهُ النَّھَار بمعنی دن کا پہلا حصہ۔ اور وَاجَهَ بمعنی آمنے سامنے ہونا۔ اور وِجْھَةٌ وہ سمت ہے جس کی طرف کوئی متوجہ ہو۔ یعنی وہ مخصوص سمت اور مقام جدھر کوئی رخ کر کے عبادت وغیرہ کرے ، قبلہ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَلِكُلٍّ وِجْهَةٌ هُوَ مُوَلِّيهَا
”اور ہر ایک (فرقے )کے لیے ایک سمت (مقرر )ہے جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کرتے ہیں۔“
[2-البقرة:148]
شَطْر
شطر کے بنیادی طور پر دو بمعنی ہیں۔ نِصْفُ الشَّئْی ، اَلْبَعْدُ وَالْمَوَاجِھَة یعنی شطر میں آمنے سامنے ہونے کے علاوہ دوری بھی ضروری ہے۔ جبکہ وِجْھَةٌ میں یہ ضروری نہیں یعنی دور دراز مقام سے کسی مخصوص جگہ کی طرف منہ کرنا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ
”اور تم جہاں سے نکلو نماز میں اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کر لیا کرو۔“
[2-البقرة:149]
تِلْقَائِی
لَقِيَ بمعنی کسی چیز کے سامنے آنا اور اسے پا لینا اور تِلْقَاءِ لِقَاء کا اسم طرف ہے یعنی ملاقات کی جگہ۔ کہتے ہیں جَلَسَ تِلْقَاءَہٗ وہ اس کے مقابل بیٹھا۔ فَعَلَ الْاَمْرُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِهٖ اس نے وہ کام خود بخود کیا اسے کسی نے مجبور نہیں کیا۔
قرآن کریم کی ایک آیت :
قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِنْ تِلْقَاءِ نَفْسِي
”کہہ دو مجھ کو اختیار نہیں کہ میں اسے اپنی طرف سے بدل دوں۔“
[10-يونس:15]
یعنی اپنی مرضی سے نہیں بدل سکتا۔
قِبَل
بمعنی مقابلہ بھی اور ایک چیز کا دوسری کے سامنے ہونا بھی ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ
”نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق و مغرب کو قبلہ سمجھ کر ان کی طرف منہ کر لو بلکہ نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالی پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے۔“
[2-البقرة:177]