شَوٰي
بمعنی گوشت وغیرہ کو آگ میں بھوننا ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
وَإِنْ يَسْتَغِيثُوا يُغَاثُوا بِمَاءٍ كَالْمُهْلِ يَشْوِي الْوُجُوهَ
”اور اگر وہ فرد یاد کریں گے تو پگھلے ہوئے تانبے کی طرح کھولتے پانی سے ان کی داد رسی کی جائے گی جو ان کے چہروں کو بھون ڈالے گی ۔“
[18-الكهف:29]
حَنَذ
الحنذة بمعنی سخت حرارت اور حَنِیْذ بمعنی گرم پانی بھی اور بھونا ہوا گوشت بھی اور حَنَذَتْةُ الشَّمْس یعنی سورج کا کسی کو جھلس دینا ، حنذ کے اصل معنی کسی بھی ذریعہ حرارت سے لزوجت اور رطوبت کو خارج کرنا ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
فَمَا لَبِثَ أَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِيذٍ
”ابھی کچھ وقفہ نہیں گزرا تھا کہ ابراہیم علیہ السلام ایک بھنا ہوا بچھڑا لے آئے۔“
[11-هود:69]