”ارادہ کرنا، قصد کرنا“ کے لیے ”اَرَاد“ ، ”(رَوْد)“ ، ”هَمَّ“ ، ”عَزَمَ“ ، ”اَبْرَمَ“ ، ”اَمَّ“ ، ”تَيَمَّمَ“ ، ”(يم)“ اور ”تَحَرَّي“ ، ”(حري)“ کے الفاظ قرآن کریم میں آئے ہیں۔
اَرَاد
رَوْد بمعنی کسی چیز کی تلاش میں آنا جانا اور اَرَادَ بمعنی کسی بات یا کام کے کرنے کا دل میں خیال(مف) آنا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ
”اس کی شان یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس سے فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتی ہے۔“
[36-يس:82]
ھَمَّ
جب کوئی ارادہ کچھ وقت دل میں رہے اور انسان اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے غور و فکر اور سوچ و بچار کرتا رہے تو اسے ھَمَّ سے تعبیر کیا جائے گا (مف)۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
أَلَا تُقَاتِلُونَ قَوْمًا نَكَثُوا أَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوا بِإِخْرَاجِ الرَّسُولِ
”بھلا تم اس قوم سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑا اور رسول کو نکالنے کی فکر میں رہے( عثمانی)“
[9-التوبة:13]
عَزَمَ
پھر جب ایسے ارادہ پر سوچ بچار کے بعد ایک قطعی فیصلہ کر لیا جائے۔ تو اسےعَزَمَ کہتے ہیں ابن الفارس کے الفاظ میں یدل علی العَزِیْمَة والقَطْع یعنی پختہ ارادہ بنا لیتا۔ پھر اس کو پورا کرنے کی ٹھان لینا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ
”اور( اے نبی) اپنے معاملہ میں( صحابہ سے) مشورہ کر لیا کرو۔ پھر جب کسی کام کو عزم کرلو تو اللہ پر بھروسہ رکھو۔“
[3-آل عمران:159]
اَبْرَمَ
بَرَمَ بمعنی دو رسیوں کو ملا کر بٹنا اور اَبْرَمَ بمعنی کسی کام یا معاملہ یا چیز کو مضبوط بنانا ہے اور اس کی ضد نقض ہے) اور ابرم بمعنی کسی عزم کو عملی جامع پہنانے کے لئے تدابیر اختیار کرنا منصوبہ بندی کرنا اور اسے آخری شکل دینا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
أَمْ أَبْرَمُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُبْرِمُونَ
”کیا انہوں نے کوئی بات ٹھہرا رکھی ہے تو ہم بھی ٹھہرانے والے ہیں۔“
[43-الزخرف:79]
اَمَّ
بمعنی کسی راستے یا سفر کا ارادہ کرنا اور امام راغب کے نزدیک سیدھا مقصد کی جانب متوجہ ہونا اور کسی طرف مائل نہ ہونا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحِلُّوا شَعَائِرَ اللَّهِ وَلَا الشَّهْرَ الْحَرَامَ وَلَا الْهَدْيَ وَلَا الْقَلَائِدَ وَلَا آمِّينَ الْبَيْتَ الْحَرَامَ
”اے ایمان والو خدا کے نام کی چیزوں کی بے حرمتی نہ کرنا اور نہ ادب کے مہینے کی اور نہ قربانی کے جانوروں کی اور نہ ان جانوروں کی جن کے گلے میں پٹے بندھے ہوں اور نہ ان لوگوں کی جو عزت کے گھر (بیت اللہ) کو جا رہے ہوں۔“
[5-المائدة:2]
تَیَمَّمَ
صاحب منتہی الارب کے نزدیک یہ لفظ دراصل تَاَمَّمَ تھا جو اَمَّ سے مشتق ہے اور ابن الفارس اس کا مادہ تم قرار دیتے ہیں یعنی عمداً اور قصداً کوئی کام کرنا گویا یہ لفظ ایسے امور سے متعلق ہے جہاں سوچ و فکر اور مشورہ کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ احکام شرعی کی تعمیل کا قصد کرنا مراد ہوتا ہے قرآن کریم میں یہ لفظ دو دفعہ استعمال ہوا ہے ایک دفعہ امر کے لیے اور دوسری دفعہ نہی کے لیے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَا تَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَلَسْتُمْ بِآخِذِيهِ إِلَّا أَنْ تُغْمِضُوا فِيهِ
”تو نہ ملا تم کو پانی تو ارادہ کرو تم زمین پاک کا (عثمانیؒ)“
[2-البقرة:267]
تَحَرَّي
حري بمعنی سزاوار اور تَحَرَّي بمعنی راہ صواب ترین جستن یعنی بہترین راہ کی تلاش کرنا اور بمعنی زیادہ مناسب اور لائق کو طلب کرنا دو چیزوں میں سے زیادہ بہتر کو طلب کرنا (منجد)۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا
”تو جو فرمابردار ہوئے انہوں نے فیصلہ کرلیا اچھی راہ کا (عثمانی)۔“
[72-الجن:14]