حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ انہوں نے سنا حضرت سعید بن مسیّب سے، کہتے تھے: جہاد میں جب لوگ غنیمتوں کو بانٹتے تھے تو ایک اونٹ کو دس بکریوں کے برابر سمجھتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 974]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 16»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جہاد میں جو شخص اجرت پر کام کرتا ہو اگر وہ لڑائی میں مجاہدین کے ساتھ شریک رہے اور آزاد ہو تو غنیمت کے مال سے اس کو حصہ ملے گا، اور اگر ایسا نہ کرے تو اس کا حصہ نہیں ہے [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 974B1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اور میری رائے میں حصہ اسی کو ملے گا جو لڑائی میں شریک ہو اور آزاد ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 974B2]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو کفار سمندر کے کنارہ پر مسلمانوں کی زمین میں ملیں اور یہ کہیں کہ ہم سوداگر تھے، دریا نے ہم کو یہاں پھینک دیا، مگر مسلمانوں کو اس امر کی تصدیق نہ ہو، البتہ یہ گمان ہو کہ جہاز ان کا ٹوٹ گیا، یا پیاس کے سبب سے اتر پڑے بغیر اجازت مسلمانوں کے، تو امام کو ان کے بارے میں اختیار ہے، اور جن لوگوں نے گرفتار کیا ان کو خمس نہیں ملے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 975Q1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جب مسلمان کفار کے ملک میں داخل ہوں اور وہاں کھانے کی چیزیں پائیں تو تقسیم سے پہلے کھانا درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 975Q2]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اونٹ اور بیل اور بکریاں بھی کھانے کی چیزیں ہیں، قبل تقسیم کے کھانا ان کا درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 975Q3]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر یہ چیزیں نہ کھائی جائیں اور تقسیم کے واسطے لائی جائیں تو لشکر کو تکلیف ہو، اس صورت میں کھانا ان کا درست ہے، مگر بقدرِ ضرورت دستور کے موافق، اور یہ درست نہیں کہ ان میں سے کوئی چیز رکھ چھوڑے اور اپنے گھر لے جائے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 975Q4]
سوال ہوا امام مالک رحمہ اللہ سے: اگر کوئی شخص کفار کے ملک میں کھانا پائے، اور ان میں سے کھائے اور کچھ بچ رہے تو اپنے گھر میں لے آنا یا راستے میں بیچ کر اس کی قیمت لینا درست ہے؟ امام مالک رحمہ اللہ نے جواب دیا: اگر جہاد کی حالت میں اس کو تو بیچے تو قیمت اس کی غنیمت میں داخل کر دے، اور جو اپنے شہر میں چلا آئے تو اس صورت میں اس کا کھانا یا اس کی قیمت سے نفع اٹھانا درست ہے جب وہ چیز قلیل اور حقیر ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 975Q5]