حضرت زید بن اسلم سے روایت ہے کہ سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو روم کے لشکروں کا اور اپنے خوف کا حال لکھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جواب لکھا کہ: بعد حمد و نعت کے معلوم ہو کہ بندۂ مؤمن پر جب کوئی سختی اُترتی ہے تو اس کے بعد اللہ پاک خوشی دیتا ہے، اور ایک سختی دو آسانیوں پر غالب نہیں ہو سکتی، اور بےشک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اپنی کتاب میں: ”اے ایمان والو! صبر کرو مصیبتوں پر، اور صبر کرو کفار کے مقابلے میں، اور قائم رہو جہاد پر، اور ڈرو اللہ سے، شاید کہ تم نجات پاؤ۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجِهَادِ/حدیث: 964]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19834، 34532، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 3195، والبيهقي فى «شعب الايمان» برقم: 10010، فواد عبدالباقي نمبر: 21 - كِتَابُ الْجِهَادِ-ح: 6»