نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے: جو عورت احرام باندھے ہو، جب احرام کھولے تو کنگھی نہ کرے جب تک اپنے بالوں کی لٹیں نہ کٹوا دے، اور جو اس کے پاس ہدی ہو تو اپنے بال نہ کتروائے جب تک ہدی نحر نہ کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 870]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، انفرد به المصنف من هذا الطريق، فواد عبدالباقي نمبر: 20 - كِتَابُ الْحَجِّ-ح: 163»
امام مالک رحمہ اللہ نے سنا بعض اہلِ علم سے، کہتے تھے کہ مرد اور اس کی عورت دونوں ایک اونٹ میں شریک نہیں ہو سکتے، بلکہ ہر ایک کے واسطے جدا جدا اونٹ چاہئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 870B1]
امام مالک رحمہ اللہ سے سوال ہوا کہ ایک شخص کے ساتھ ہدی روانہ کی گئی تاکہ نحر کرے اس کو حج میں، اور اس شخص نے احرام باندھا عمرہ کا، تو وہ نحر کرے ہدی کو جب احرام کھولے عمرہ کا؟ یا تاخیر کر ے اس کی نحر میں حج تک؟ تو جواب دیا کہ تاخیر کرے ہدی کی نحر میں، اور نحر کرے اس کو حج میں، اور وہ عمرہ کرے احرام کھول ڈالے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 870B2]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: جس شخص پر ہدی کا حکم ہوا شکار کے عوض، یا اور کسی وجہ سے ہدی اس پر واجب ہوئی، تو اس کو چاہیے کہ ہدی مکہ میں لے کر آئے جیسا کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے: «﴿هَدْيًا بَالِغَ الْكَعْبَةِ﴾»(5-المائدة:95) یعنی ”ہدی پہنچنے والی ہو کعبہ میں۔“ اور جو شکار کے بدلے میں یا ہدی کے عوض میں روزے رکھنا پڑیں، یا صدقہ دینا لازم آئے، تو اختیار ہے کہ جہاں چاہے روزے رکھے، یا صدقہ دے حرم میں یا غیر حرم میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 870B3]