نافع سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی بیٹیوں اور لونڈیوں کو سونے کا زیور پہناتے تھے اور ان کے زیوروں میں سے زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 661]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 7630، 7631، 7646، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 1199، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم:2353، والدارقطني فى «سننه» برقم: 1967، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7047، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 10271، والشافعي فى «الاُم» برقم: 41/2، والشافعي فى «المسنده» برقم: 413/1، شركة الحروف نمبر: 538، فواد عبدالباقي نمبر: 17 - كِتَابُ الزَّكَاةِ-ح: 11»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کے پاس سونے یا چاندی کا ڈلا ہو اور اس سے نفع نہ لیا جاتا ہو، مثل پہننے وغیرہ کے تو اس کی زکوٰۃ واجب ہے۔ ہر سال اس میں سے چالیسواں حصہ لیا جائے گا، مگر جب بیس دینار یا دو سو درہم سے وزن میں کم ہو تو زکوٰۃ واجب نہ ہوگی بلکہ زکوٰۃ اسی صورت میں ہوگی جب نصاب کے مقدار ہو، اور اس سے منفعت نہ لی جائے، لیکن وہ ڈلا جس سے زیور بنانا مقصود ہو یا ٹوٹا ہوا زیور جس کا درست کرنا منظور ہو تو وہ مثل اسباب خانگی کے ہے، اس میں زکوٰۃ نہیں ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 661B1]