حضرت ابوالنضر سے روایت ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا مجھ سے: میں نہیں دیکھتا تمہارے صاحب یعنی حضرت عمر بن عبیداللہ کو تحیۃ المسجد پڑھتے ہوئے، جب آتے ہیں مسجد کو تو بیٹھ جاتے ہیں بغیر دو رکعتیں پڑھے ہوئے۔ ابوالنضر نے کہا کہ ابوسلمہ عیب کرتے تھے اس امر کا حضرت عمر بن عبیداللہ پر۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: تحیۃ المسجد پڑھنا مستحب ہے، واجب نہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 389]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 1674، شركة الحروف نمبر: 357، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 58»