حضرت یحییٰ بن سعید نے کہا حضرت سالم بن عبداللہ سے کہ تم نے اپنے باپ کو کہاں تک دیر کرتے دیکھا مغرب کی نماز میں سفر میں؟ سالم نے کہا: آفتاب ڈوب گیا تھا اور ہم اس وقت ذات الجیش میں تھے پھر نماز پڑھی مغرب کی عقیق میں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 335]