حضرت امیہ بن عبداللہ نے پوچھا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ ہم پاتے ہیں خوف کی نماز اور حضر کی نماز کو قرآن میں اور نہیں پاتے ہیں ہم سفر کی نماز کو قرآن میں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا کہ اے بھتیجے میرے! اللہ جل جلالہُ نے بھیجا ہماری طرف حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت میں کہ ہم کچھ نہ جانتے تھے، پس کرتے ہیں ہم جس طرح ہم نے دیکھا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ/حدیث: 333]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 946، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 1451، 2735، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 952، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 1434، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 1905، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1066، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 5471، وأحمد فى «مسنده» برقم: 5431، 5787، 6464، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 4276 شیخ سلیم الہلالی کہتے ہیں اگرچہ یہ سند ضعیف ہے، لیکن یہ روایت موصول بیان ہوئی ہے۔، شركة الحروف نمبر: 309، فواد عبدالباقي نمبر: 9 - كِتَابُ قَصْرِ الصَّلَاةِ فِي السَّفَرِ-ح: 7»