سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے بیعت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر، اس کو بخار آنے لگا مدینہ میں، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیعت توڑ دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ پھر آیا اور کہا: میری بیعت توڑ دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ پھر آیا اور کہا: میری بیعت توڑ دیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کیا۔ وہ مدینہ سے نکل گیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مدینہ مثل دھونکنی یا کھریا (بھٹی) کے ہے کہ جو میل نکال دیتی ہے اور خالص کندن رکھ لیتی ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْجَامِعِ/حدیث: 1596]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1883، 7209، 7211، 7216، 7322، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1383، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3732، 3735، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 4190، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 4248، 7760، 8665، والترمذي فى «جامعه» برقم: 3920، وأحمد فى «مسنده» برقم: 14335، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1277، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 17164، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 33090، 33093، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 1730، فواد عبدالباقي نمبر: 45 - كِتَابُ الْجَامِعِ-ح: 4»