حضرت صفیہ بنت ابی عیبد سے روایت ہے کہ لوگ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص کو لائے جس نے ایک باکرہ (کنواری) لونڈی سے زنا کر کے اس کو حاملہ کر دیا تھا، بعد اس کے زنا کا اقرار کیا اور وہ محصن (شادی شدہ) نہ تھا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حکم کیا اس کو کوڑا مارنے کا، اس کو حد پڑی، بعد اس کے نکال دیا گیا فدک کی طرف (فدک ایک موضع ہے مدینہ سے دو دن کی راہ پر)۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1553]
تخریج الحدیث: «موقوف ضعيف، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17073، 17074، والبيهقي فى «سننه الصغير» برقم: 3219، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 5060، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13311، 13312، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 29392، فواد عبدالباقي نمبر: 41 - كِتَابُ الْحُدُودِ-ح: 13»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: جو شخص زنا کا اقرار کرے، بعد اس کے منکر ہو جائے اور کہے: میں نے زنا نہیں کیا، بلکہ میں نے فلانا کام کیا (جیسے اپنی عورت سے حالتِ حیض میں جماع کیا، اس کو زنا سمجھا) تو اس پر حد نہ پڑے گی، کیونکہ حد پڑنے میں یا تو گواہ عادل ہونے چاہییں یا اقرار ہو جس پر وہ قائم رہے حد پڑنے تک۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1553B1]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: میں نے اپنے شہر کےعالموں کو اس پر پایا کہ غلام اگر زنا کریں تو وہ جلا وطن نہ کئے جائیں گے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْحُدُودِ/حدیث: 1553B2]