امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو مکاتب دو آدمیوں میں مشترک ہو، ایک اس سے قطاعت کرے اپنے حق کے نصف پر دوسرے کے اذن سے، پھر جس نے قطاعت نہیں کی وہ بھی مکاتب سے قطاعت سے کم وصول کرے، بعد اس کے مکاتب عاجز ہو جائے تو قطاعت والا اگر چاہے جتنی قطاعت زیادہ ہے اس کا آدھا اپنے شریک کو دے کر غلام میں آدھا ساجھا کر لیں، ورنہ اس قدر حصّہ غلام کا دوسرے شریک کا ہوجائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1296B1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی شرح یہ ہے کہ مثلاً ایک غلام دو آدمیوں میں مشترک ہو، دونوں مل کر اس کو مکاتب کریں، پھر ایک شریک اپنے آدھے حق پر غلام سے قطاعت کر لے، یعنی پورے غلام کے چوتھائی پر، بعد اس کے مکاتب عاجز ہو جائے تو جس نے قطاعت کی ہے اس سے کہا جائے گا کہ جس قدر تو نے زیادہ لیا ہے اس کا آدھا اپنے شریک کو پھیر دے اور غلام میں آدھا ساجھا رکھ، اگر وہ انکار کرے تو قطاعت والے کا چوتھائی غلام بھی اس شریک کو مل جائے گا، اس صورت میں اس شریک کے تین چوتھائی ہوں گے اور اس کا ایک چوتھائی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1296B4]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب سے اس کا مولیٰ قطاعت کرے اور وہ آزاد ہو جائے، اور جس قدر قطاعت کا روپیہ مکاتب پر رہ جائے وہ اس پر قرض ہے، بعد اس کے مکاتب مر جائے اور وہ مقروض ہو لوگوں کا، تو مولیٰ دوسرے قرض خواہوں کے برابر نہ ہوگا، بلکہ اس مال میں سے پہلے اور قرض خواہ اپنا قرضہ وصول کریں گے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1296B5]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو مکاتب مقروض ہو اس سے مولیٰ قطاعت نہ کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ غلام آزاد ہوجائے بعد اس کے سارا مال اس کا قرض خواہوں کو مل جائے، مولیٰ کو کچھ نہ ملے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1296B6]
کہا امام مالک رحمہ اللہ نے: ہمارے نزدیک یہ حکم ہے اگر کوئی شخص اپنے غلام کو مکاتب کرے، پھر اس سے سونے پر قطاعت کرے اور بدل کتابت معاف کر دے اس شرط سے کہ زرِ قطاعت فی الفور دے دے، تو اس میں کچھ قباحت نہیں ہے، اور جس شخص نے اس کو مکروہ رکھا ہے اس نے یہ خیال کیا کہ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کا میعادی قرضہ کسی پر ہو، وہ اس کے بدلے میں کچھ نقد لے کر قرضہ چھوڑ دے، حالانکہ یہ قرض کی مثل نہیں ہے، بلکہ قطاعت اس لیے ہوتی ہے کہ غلام جلد آزاد ہو جائے، اور اس کے لیے میراث اور شہادت اور حدود لازم آجائیں، اور حرمت عتاقہ ثابت ہوجائے، اور یہ نہیں ہے کہ اس نے روپیوں کو روپیوں کے عوض میں یا سونے کو سونے کے عوض میں خریدا، بلکہ اس کی مثال یہ ہے: ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا: تو مجھے اس قدر اشرفیاں لا دے اور تو آزاد ہے، پھر اس سے کم کر کے کہا: اگر اتنے بھی لا دے تو بھی تو آزاد ہے، کیونکہ بدل کتابتِ دین صحیح نہیں ہے، ورنہ جب مکاتب مرجاتا تو مولیٰ بھی اور قرض خواہوں کے برابر اس کے مال کا دعویٰ دار ہوتا ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1296B7]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب کسی شخص کو ایسا زخمی کرے جس میں دیت واجب ہو تو اگر مکاتب اپنے بدل کتابت کے ساتھ دیت بھی ادا کر سکے تو دیت ادا کر دے، وہ مکاتب بنا رہے گا، اگر وہ اس پر قادر نہ ہو تو اپنی کتابت سے عاجز ہوا، کیونکہ دیت کا ادا کرنا کتابت پر مقدم ہے، پھر جب دیت دینے سے عاجز ہو جائے تو اس کے مولیٰ کو اختیار ہے اگر چاہے تو دیت ادا کر دے اور مکاتب کو غلام سمجھ کر رکھ لے، اب وہ بدستور اس کا غلام ہو جائے گا، اگر چاہے تو خود مکاتب کو اس شخص کے حوالے کرے جو زخمی ہوا ہے، مگر مولیٰ پر لازم نہیں ہے کہ غلام دے ڈالنے سے زیادہ اور کچھ اپنا نقصان کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر چند غلام ایک ساتھ مکاتب ہوں پھر ان میں سے ایک غلام کسی شخص کو زخمی کرے تو سب غلاموں سے کہا جائے گا دیت ادا کرو، اگر ادا کریں گے اپنی کتابت پر قائم رہیں گے، اگر نہ کریں گے سب کے سب عاجز سمجھے جائیں گے، چاہے جس غلام نے زخمی کیا ہے اس کو حوالے کر دے، باقی غلام بدستور مولیٰ کے غلام ہو جائیں گے، کیونکہ وہ دیت دینے سے عاجز ہوگئے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q2]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب کو یا اس کی اولاد کو جو کتابت میں داخل ہو کوئی زخمی کرے، تو اس کی دیت غلاموں کی سی ہوگی، اور وہ دیت مولیٰ کو دی جائے گی، اور اس قدر بدل کتابت میں سے وضع کیا جائے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q3]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس کی شرح یوں ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلاموں کو تین ہزار درہم پر مکاتب کیا، اور اس کے زخم کی دیت ایک ہزار درہم وصول پائی، تو اب جب وہ مکاتب دوہزار درہم ادا کردے گا آزاد ہو جائے گا، اگر مولیٰ کے اس غلام پر ہزار ہی درہم بابتِ کتابت کے باقی تھے کہ ایک ہزار درہم دیت کے پائے تو وہ آزاد ہوجائے گا، اور جس قدر درہم باقی تھے اس سے زیادہ دیت کے درہم پائے تو مولیٰ جتنے باقی تھے اتنے لے کر باقی مکاتب کو پھیر دے گا، اور مکاتب آزاد ہوجائے گا، یہ درست نہیں کہ مکاتب کی دیت اسی کو حوالہ کر دیں، وہ کھا پی کر برابر کر دے، پھر اگر عاجز ہو جائے تو کانا لنگڑا لولا ہو کر اپنے مولیٰ کے پاس آئے، کیونکہ مولیٰ نے اس کو اختیار دیا تھا اس کے مال اور کمائی پر، نہ اپنی اولاد کی قیمت یا اپنی دیت پر کہ وہ کھا پی کر برابر کر دے، بلکہ مکاتب کی دیت اور اس کی اولاد کی دیت جو حالتِ کتابت میں پیدا ہوئی، یا ان پر عقدِ کتابت ہوا مولیٰ کو دی جائے گی، اور اس کے بدل کتابت میں مجرا ہوگی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q4]
خریدے۔ کیونکہ یہ خرید مثل قطاعت کے ہے، اور مکاتب کو یہ درست نہیں کہ اپنے شریک سے قطاعت کر لے مگر اور شریکوں کے اذن سے، اور اس قدر حصّہ خریدنے سے اس کو پوری آزادی بھی حاصل نہیں ہوتی، اور اپنے مال پر قادر نہیں ہے، بلکہ تھوڑا حصّہ خریدنے میں یہ بھی خیال ہے کہ عاجز ہو جائے، کیونکہ اس کا مال اس خرید میں صرف ہو جائے گا اور یہ اس کی مثل نہیں ہے کہ مکاتب اپنے تئیں پورا پورا خرید لے، ہاں جس صورت میں باقی شرکاء بھی اجازت دیں تو اوروں سے زیادہ اس کو اس حصّے کے خریدنے کا استحقاق [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q5]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکاتب کی قسط کی بیع درست نہیں، کیونکہ اس میں دھوکہ ہے اس واسطے کہ اگر مکاتب عاجز ہو گیا تو اس کے ذمے جو روپیہ تھا باطل ہو گیا، اور اگر مکاتب مر گیا یا مفلس ہو گیا اور اس پر لوگوں کے قرضے ہیں، تو جس شخص نے اس کی قسط خریدی تو وہ قرض خواہوں کے برابر نہ ہوگا، بلکہ مثل مکاتب کے مولیٰ کے ہوگا، اور مولیٰ مکاتب کے قرض خواہوں کے برابر نہیں ہوتا، اسی طرح خراج مولیٰ کا اگر غلام کے ذمے پر جمع ہو جائے تب بھی مولیٰ اور قرض خواہوں کے برابر نہ ہو گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q6]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مکاتب اگر اپنی کتابت کو خرید کرے نقد روپیہ اشرفی کے بدلے میں یا کسی اسباب کے بدلے میں جو بدل کتابت کی جنس سے نہ ہو یا اسی جنس سے مؤجل ہو یا معجّل ہو تو درست ہے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q7]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر مکاتب مر جائے اور اپنی اُم ولد اور اولاد صغار کو جو اسی اُم ولد سے ہو یا کسی اور عورت سے چھوڑ جائے اور اولاد اس کی محنت مزدوری پر قادر نہ ہو اور کتابت سے عاجز ہو جانے کا خوف ہو تو اُم ولد کو بیچ ڈالیں گے، جب اس کی قیمت اس قدر ہو کہ بدل کتابت پورا پورا ادا ہو سکے، کیونکہ مکاتب کو اگر خوف ہوتا عجز کا تو وہ اس اُم ولد کو بیچ سکتا ہے، اسی طرح اولاد پر جب خوف ہوگا عجز کا تو ان کے باپ کی اُم ولد بیچی جائے گی، اور وہ آزاد ہو جائیں گے، اگر اس اُم ولد کی قیمت بدل کتابت کو مکفّی نہ ہو اور اُم ولد سے محنت مزدوری نہ ہو سکے نہ مکاتب کی اولاد سے تو سب کے سب اپنے مولیٰ کے غلام ہو جائیں گے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q8]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص مکاتب کی کتابت خریدے پھر مکاتب مر جائے قبل اپنی کتابت ادا کرنے کے، تو جس شخص نے کتابت خریدی ہے وہی اس کا وارث ہوگا، اگر مکاتب عاجز ہو جائے تو اسی کا غلام ہو جائے گا، اور اگر مکاتب نے بدل کتابت اس شخص کو ادا کر دیا اور عاجز ہو گیا تو ولاء اس شخص کو ملے گی جس نے اس کو مکاتب کیا تھا، نہ کہ اس شخص کو جس نے اس کی کتابت خریدی تھی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُكَاتَبِ/حدیث: 1297Q9]