ابوقلابہ نے مرفوعاً روایت کیا کہ جو شخص قرآن پاک کے شروع (افتتاح) میں حاضر ہوا گویا کہ وہ اللہ کے راستے کی فتح میں حاضر ہوا، اور جو ختم قرآن کے وقت حاضر ہوا تو گویا کہ وہ تقسیم غنائم کے وقت حاضر ہوا۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3503]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «في إسناده علتان: الإرسال وضعف صالح بن بشير المري، [مكتبه الشامله نمبر: 3514] » اس روایت کی سند میں دو علتیں ہیں: مرسل ہے، اور صالح بن بشیر المری ضعیف ہیں۔ حوالہ کیلئے دیکھئے: [فضائل القرآن لابي عبيد، ص: 107] و [فضائل ابن الضريس 77] و [جمال القراء للسخاوي 112/1]