سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا جا رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عقبہ! کہو“، میں نے عرض کیا: کیا کہوں؟ سیدنا عقبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ خاموش ہو گئے پھر کچھ دیر بعد فرمایا: ”اے عقبہ! کہو“، میں نے پھر عرض کیا: کیا کہوں؟ فرمایا: ” «قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ»“، چنانچہ میں نے پوری سورت آخر تک پڑھی تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مانگنے والے نے اس کے مثل نہیں مانگا، اور نہ کسی پناہ چاہنے والے نے اس کے مثل پناہ چاہی۔“[سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3472]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن من أجل محمد بن عجلان ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 3483] » محمد بن عجلان کی وجہ سے اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [نسائي 5456] ، [البيهقي فى شعب الإيمان 2564]
وضاحت: (تشریح احادیث 3470 سے 3472) یعنی اللہ تعالیٰ سے مانگنے میں اور پناہ طلب کرنے میں سورۃ الفلق بہت عمدہ ہے اور اس جیسی اور کوئی سورت نہیں ہے۔