تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1- حدیث نمبر سے حدیث تلاش کیجئے:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
سنن دارمی میں عربی لفظ تلاش کریں:
سنن دارمی میں اردو لفظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

سنن دارمي
من كتاب فضائل القرآن
قرآن کے فضائل
21. باب في فَضْلِ يس:
21. سورہ یس کی فضیلت
حدیث نمبر: 3451
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا رَاشِدٌ أَبُو مُحَمَّدٍ الْحِمَّانِيُّ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: "مَنْ قَرَأَ (يس) حِينَ يُصْبِحُ، أُعْطِيَ يُسْرَ يَوْمِهِ حَتَّى يُمْسِيَ، وَمَنْ قَرَأَهَا فِي صَدْرِ لَيْلِهِ، أُعْطِيَ يُسْرَ لَيْلَتِهِ حَتَّى يُصْبِحَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: جو صبح کے وقت سورہ یس پڑھے شام تک اس کے لئے آسانی رہے گی، اور جو رات کے شروع میں پڑھے اس کو صبح تک کے لئے آسانی دی جائے گی۔ [سنن دارمي/من كتاب فضائل القرآن /حدیث: 3451]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن وهو موقوف على ابن عباس، [مكتبه الشامله نمبر: 3462] »
یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما پر موقوف ہے، لیکن سند اس کی حسن ہے۔ [ذكره السيوطي فى الدر المنثور 257/5، واحاله إلى الدارمي]

سنن دارمی کی حدیث نمبر 3451 کے فوائد و مسائل
  حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،دارمی3451  
سورہ یٰسین کی برکتیں: دن بھر اور رات بھر کی آسانیاں
اس روایت کے راویوں کا مختصر تعارف درج ذیل ہے:
➊ عمرو بن زرارہ: «ثقة ثبت» [تقريب التهذيب: 5032]
➋ عبدالوھاب الثقفی: «ثقة تغير قبل موته بثلاث سنين» [التقريب: 4261]
«لكنه ما ضرتغيره حديثه فإنه ماحدث بحديث فى زمن التغير» [ميزان الاعتدال 2/ 681]
➌ راشد بن نجیح الحمانی: «صدوق ربماأخطأ» [تقريب التهذيب: 1857]
«وحسن له البوصيري» [زوائد ابن ماجه: 3371]
یہ حسن الحدیث راوی تھے۔
➍ شہر بن حوشب مختلف فیہ راوی ہیں، جمہور محدثین نے ان کی توثیق کی ہے۔ [كما حققته فى كتابي: تخريج النهاية فى الفتن والملاحم ص 119، 120]
حافظ ابن کثیر ان کی ایک روایت کو حسن کہتے ہیں۔ [مسند الفاروق ج 1 ص 228]
میری تحقیق میں یہ راوی حسن الحدیث ہیں۔ «والله اعلم»
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
فتاویٰ علمیہ المعروف توضیح الاحکام (جلد 1 صفحہ 496 اور 497) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
   فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 496