الحمدللہ! صحيح ابن خزيمه پیش کر دی گئی ہے۔    


سلسله احاديث صحيحه کل احادیث (4103)
حدیث نمبر سے تلاش:

سلسله احاديث صحيحه
सिलसिला अहादीस सहीहा
السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان
سفر، جہاد، غزوہ اور جانور کے ساتھ نرمی برتنا
1345. فضیلت جہاد
حدیث نمبر: 2025
- (والذي نفْسِي بيده! لو طُوِّقْتِيه؛ ما بلغتِ العُشُر من عمله حتّى يرجع. يعني: زوجَها الغازي)
سہل بن معاذ بن انس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خاوند جہاد کے لیے روانہ ہو گیا ہے اور میں نماز میں اور اس کے تمام (اچھے) اعمال میں اس کی اقتدا کرتی تھی، اب آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیں جو مجھے اس کے عمل (کے درجے) تک پہنچا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: کیا تو طاقت رکھتی ہے کہ (مسلسل) قیام کرتی رہے اور آرام نہ کرے اور (مسلسل) روزے رکھتی رہے اور (کسی دن) افطار نہ کرے اور (مسلسل) اللہ کا ذکر کرتی رہے اور (کبھی) اس سے غفلت نہ برتے، یہاں کہ وہ لوٹ آئے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس عمل کی طاقت نہیں رکھتی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تجھے یہ اعمال کرنے کی طاقت مل بھی جائے تو تو اس کے عمل کے دسویں حصے تک بھی نہیں پہنچ سکے گی۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2025]
حدیث نمبر: 2026
- (أقربُ العملِ إلى الله عز وجل: الجهاد في سبيل الله، ولا يقاربه شيء؛ [إلا من كان مثل هذا، وأشار النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إلى قائم لا يفترُ من قيامٍ وصيامٍ]).
سیدنا فضالہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ آپ پر رحمت نازل فرمائے، (ذرا بتائیں کہ) جہاد کے قریب ترین عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب عمل اس کے راستے میں جہاد کرنا ہے اور اس جیسا کوئی عمل نہیں ہے، ہاں جو اس طرح کا آدمی ہو۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کرنے والے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا جو نہ قیام کرنے سے سست پڑتا ہے اور نہ روزے رکھنے میں غفلت برتتا ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2026]
حدیث نمبر: 2027
-" أيما رجل رمى بسهم في سبيل الله عز وجل، فبلغ مخطئا أو مصيبا فله من الأجر كرقبة يعتقها من ولد إسماعيل. وأيما رجل شاب شيبة في سبيل الله فهو له نور. وأيما رجل مسلم أعتق رجلا مسلما، فكل عضو من المعتق بعضو من المعتق فداء له من النار. وأيما امرأة مسلمة أعتقت امرأة مسلمة، فكل عضو من المعتقة بعضو من المعتقة فداء لها من النار. وأيما رجل مسلم قدم لله عز وجل من صلبه ثلاثة لم يبلغوا الحنث أو امرأة، فهم له سترة من النار. وأيما رجل قام إلى وضوء يريد الصلاة، فأحصى الوضوء إلى أماكنه، سلم من كل ذنب أو خطيئة له، فإن قام إلى الصلاة رفعه الله بها درجة، وإن قعد قعد سالما".
ابوطیبہ بیان کرتے ہیں کہ شرحبیل بن سمط نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور کہا: ابن عبسہ! کیا تو ایسی حدیث بیان کر سکتا ہے، جو تو نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہو، نہ اس میں زیادتی ہو اور نہ کوئی جھوٹ۔ اور تو نے وہ کسی واسطے سے نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے براہ راست سنی ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: (۱) جس آدمی نے اللہ کے راستے میں تیر پھینکا، وہ نشانے پر لگا یا نہ لگا، اسے سیدنا اسماعیل علیہ السلام کی اولاد سے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ (۲) جو آدمی اللہ کے راستے میں بوڑھا ہو گیا تو یہ عمل اس کے لیے نور ہو گا۔ (۳) جس مسلمان نے کسی مسلمان غلام کو آزاد کیا تو آزاد شدہ کے ہر ایک عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو آگ سے آزاد ہو جائے گا۔ (۴) جس مسلمان عورت نے کسی مسلمان عورت کو آزاد کیا تو آزاد شدہ عورت کے ہر عضو کے بدلے آزاد کنندہ کا ہر عضو جہنم سے آزاد ہو جائے گا۔ (۵) جس مسلمان مرد یا عورت نے اپنی اولاد میں سے تین نابالغ بچے آگے بھیج دیے (یعنی فوت ہو گئے) تو وہ اس کے لیے آگ کے سامنے آڑ بن جائیں گے (یعنی وہ جہنم میں داخل نہیں ہو گا)۔ (۶) جو آدمی نماز کے ارادے سے وضو کرنے کے لیے اٹھا اور وضو میں پانی کو اس کی جگہ تک پہنچایا تو وہ ہر گناہ یا خطا سے پاک ہو جائے گا۔ اب اگر وہ نماز پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کرے گا اور اگر ویسے ہی بیٹھ جاتا ہے تو (گناہوں سے) پاک ہو کر بیٹھے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2027]
حدیث نمبر: 2028
-" موقف ساعة في سبيل الله خير من قيام ليلة القدر عند الحجر الأسود".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں سرحدی پہرہ دے رہا تھا، (اچانک) لوگ گھبرا گئے اور ساحل کی طرف نکل پڑے۔ پھر کہا گیا کہ کوئی بات نہیں ہے۔ پس لوگ پلٹ آئے اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کھڑے رہے، ایک آدمی ان کے پاس سے گزرا اور کہا: ابوہریرہ! آپ یہاں کیوں کھڑے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: اللہ کے راستے میں کچھ وقت ٹھہرنا حجراسود کے پاس شب قدر کا قیام کرنے سے بہتر ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2028]
حدیث نمبر: 2029
- (انتدبَ اللهُ عزّ وجلّ لمن خرجَ في سبيله ـ لا يخرجُ إلا جِهاداً في سبيلي، وإيماناً بِي ,وتصدِيقاً برسولِي ـ؛ فهو عليَّ ضامنٌ أنْ أدْخلَه الجنّةَ، أو أَرجِعَهُ إلى مَسْكنهِ الذي خرجَ منهُ؛ نائلاً ما نالَ من أَجْرٍ أو غنيمةٍ. والذي نفْس محمّدٍ بيده! ما من كَلْمٍ يُكْلَمُ في سبيل الله؛ إلا جاءَ يومَ القيامةِ كهيئتهِ يومَ كُلِمَ؛ لوْنه لونُ دمٍ، وريحُه ريحُ مسكٍ. والذي نفسُ محمّدٍ بيدِه! لولا أنْ أشقَّ على المسلِمينَ؛ ما قعدتُ خلافَ سَرِيَّة تغزُو في سبيلِ اللهِ أبداً؛ ولكنِّي لا أجدُ سَعَة فيتبعُوني، ولا تطيبُ أنفُسُهم فيتخلفونَ بعْدي. والذي نفسُ محمّد بيدِه! لوددتُ أنْ أغزوَ في سبيلِ اللهِ فأُقْتَل، ثمَّ أغزُوَ فأُقتل، ثم أغزُوَ فأُقتل).
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس آدمی کی ضمانت اٹھائی ہے جو اس کے راستے میں نکلتا ہے اور (اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ) جب یہ آدمی صرف میرے راستے میں جہاد کرنے، مجھ پر ایمان لانے اور میرے رسول کی تصدیق کرنے کی وجہ سے نکلتا ہے تو میں بھی ضمانت دیتا ہوں کہ اسے جنت میں داخل کروں گا یا اس کو اجر یا غنیمت، جو بھی اس نے حاصل کیا، سمیت اس کے گھر لوٹا دوں گا۔ (پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) اس ذات کے قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو زخم بھی اللہ کے راستے میں لگتا ہے تو زخمی جس حالت میں زخمی ہوا تھا، اس حالت میں روز قیامت آئے گا، زخم سے بہنے والے خون کا رنگ تو وہی ہو گا جو خون کا ہوتا ہے، لیکن اس کی خوشبو کستوری کی طرح کی ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! اگر مسلمانوں پر گراں نہ گزرتا تو میں کبھی بھی اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے لشکر سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میرے پاس (اسباب کی) وسعت نہیں کہ وہ سب میرے ساتھ آ سکیں اور مجھ سے پیچھے رہنا وہ پسند نہیں کرتے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! میں تو چاہتا ہوں کہ اللہ کے راستے میں جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں، پھر (زندہ ہو کر) جہاد کروں اور قتل کر دیا جاؤں۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2029]
حدیث نمبر: 2030
ـ (ثلاثةٌ يحبُّهم اللهُ عزّ وجلّ، ويضحكُ إليهم، ويستبشرُ بهم: الذي إذا انكَشَفتْ فئةٌ؛ قاتلَ وراءَها بنفسِه لله عزّ وجلّ، فإمّا أنْ يُقتلَ، وإمّا أن يَنصُرَه اللهُ ويكفِيَه، فيقولُ اللهُ: انظرُوا إلى عبدِي كيف صَبَرَ لي نفسَه؟! والذي له امرأة حسناء، وفراش لين حسن، فيقوم من الليل، فـ[يقول:] يذر شهوتَه، فيذكُرني ويناجيني، ولو شاءَ رقَدَ! والذِي يكونُ في سَفَرٍ، وكانَ معَه ركْبٌ؛ فسهِرُوا ونصِبُوا ثمّ هَجَعُوا، فقامَ من السّحرِ في سرّاءَ أو ضرّاءَ).
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تین قسم کے آدمیوں سے محبت کرتا ہے، ان پر ہنستا ہے اور ان سے خوش ہوتا ہے: (۱) وہ آدمی کہ (اس کی جماعت) فرار ہو گئی، لیکن وہ ان کے بعد اللہ کے لیے لڑتا رہا، قتل ہو گیا یا اللہ تعالیٰ نے اس کی مدد کی اور اسے کافی ہو گیا، اللہ تعالیٰ (ایسے آدمی کے بارے میں) کہتا ہے؟ میرے بندے کی طرف دیکھو، وہ اپنے آپ سے کیسے صبر کروا رہا ہے؟ (۲) وہ آدمی کہ جس کی بیوی خوبصورت اور اس کے پاس بہترین نرم بستر ہے، لیکن وہ قیام کرنے کے لیے رات کو کھڑا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: (میرے بندہ) اپنی شہوت ترک کر کے میرا ذکر کر رہا ہے اور مجھ سے سرگوشی کر رہا ہے، اگر یہ چاہتا تو سو بھی سکتا تھا۔ (۳) اور وہ آدمی جو قافلے سمیت سفر پر ہو، وہ رات کو کچھ حصہ جاگنے (اور چلنے کی وجہ سے) چکنا چور ہو گئے ہوں اور (بالآخر) سو گئے ہوں، لیکن وہ خوشی و ناخوشی میں سحری کے وقت اٹھ کھڑا ہو (اور نماز پڑھنا شروع کر دے)۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2030]
حدیث نمبر: 2031
-" ما خالط قلب امرئ مسلم رهج (¬1) في سبيل الله إلا حرم الله عليه النار". (¬1) أي: الغبار. اهـ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرا مکاتب اپنی مکاتبت کا بقیہ حصہ لے کر میرے پاس آیا۔ میں نے اسے کہا: اس دفعہ کے بعد تو مجھ پر داخل نہیں ہو سکتا (کیونکہ تو اب آزاد ہو چکا ہے)۔ تو اللہ کے راستے میں جہاد کر، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جس مسلمان کے دل پر اللہ کے راستے میں غبار لگ جاتا ہے، اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام قرار دیتے ہیں۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2031]
حدیث نمبر: 2032
-" لقيام رجل في سبيل الله (ساعة) أفضل من عبادة ستين سنة".
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا کچھ دیر کے لیے اللہ کے راستے میں ٹھہرنا ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2032]
حدیث نمبر: 2033
-" من رمى بسهم في سبيل الله كان له نورا يوم القيامة".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے اللہ کے راستے میں ایک تیر پھینکا تو یہ روز قیامت اس کے لیے نور ہو گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2033]
حدیث نمبر: 2034
-" من اغبرت قدماه في سبيل الله حرمه الله على النار".
عبایہ بن رفاعہ کہتے ہیں: میں جمعہ کی نماز کے لیے جا رہا تھا، مجھے سیدنا ابوعبس رضی اللہ عنہ ملے اور کہا: خوش ہو جا، تیرے یہ قدم اللہ کے راستے میں ہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جس آدمی کے قدم اللہ کے راستے میں خاک آلود ہوں گے، اللہ تعالیٰ اسے آگ پر حرام کر دے گا۔ [سلسله احاديث صحيحه/السفر والجهاد والغزو والرفق بالحيوان/حدیث: 2034]

1    2    3    4    5    Next