سیدنا اُسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔“[موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1486]
تخریج الحدیث: «مرفوع صحيح، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 1588، 3058، 4282، 6764، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 1614، وابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 2985، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 5149، 6033، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2962، 4200، والنسائی فى «الكبریٰ» برقم: 4241،، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2010، 2909، 2910، والترمذي فى «جامعه» برقم: 2107، 2107 م، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3041، 3043، 3044، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2729، 2730، 2942، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 135، 136، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 9838، وأحمد فى «مسنده» برقم: 22157، والحميدي فى «مسنده» برقم: 551، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9851، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 10»
حضرت علی بن حسین یعنی امام زین العابدین سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب ابو طالب مر گئے تو ان کے وارث عقیل اور طالب ہوئے(1)، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے وارث نہیں ہوئے(2)۔ علی بن حسین نے کہا: اسی واسطے ہم نے اپنا حصّہ مکہ کے گھروں میں سے چھوڑ دیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1487]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم: 3835، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9853، والشافعي فى «المسنده» برقم:421/2، والشافعي فى «الاُم» برقم: 72/4، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 11»
حضرت محمد بن اشعث کی ایک پھوپھی یہودی تھی یا نصرانی مر گئی، محمد بن اشعث نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور پوچھا کہ اس کا کون وارث ہوگا؟ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے مذہب والے وارث ہوں گے۔ پھر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب خلیفہ ہوئے تو ان سے پوچھا۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تو سمجھتا ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جو تجھ سے کہا تھا اس کو میں بھول گیا، وہی اس کے وارث ہوں گے جو اس کے مذہب والے ہیں۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1488]
تخریج الحدیث: «موقوف حسن، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 12359، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9859، والدارمي فى «مسنده» برقم: 3031، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 144، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31795، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 12»
حضرت اسمعیل بن ابی حکیم سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز کا ایک غلام نصرانی تھا، اس کو انہوں نے آزاد کر دیا، وہ مر گیا تو عمر بن عبدالعزیز نے مجھ سے کہا کہ اس کا مال بیت المال میں داخل کر دو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1489]
تخریج الحدیث: «مقطوع صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 21471، والبيهقي فى «معرفة السنن والآثار» برقم:6062، والشافعي فى «الاُم» برقم: 128/4، وسعيد بن منصور فى «سننه» برقم: 149، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 9866، 9867، 10201، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 12694، 31447، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 13»
حضرت سعید بن مسیّب کہتے تھے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انکار کیا غیر ملک کے لوگوں کی میراث دلانے کا اپنے ملک والوں کو، مگر جو عرب میں پیدا ہوا ہو۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1490]
تخریج الحدیث: «موقوف صحيح، وأخرجه البيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 18336، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 31363، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19173، والدارمي فى «سننه» برقم: 3095، فواد عبدالباقي نمبر: 27 - كِتَابُ الْفَرَائِضِ-ح: 14»
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر ایک عورت حاملہ کفار کے ملک میں سے آکر عرب میں رہے، اور وہاں (بچہ) جنے تو وہ اپنے لڑکے کی وارث ہوگی اور لڑکا اس کا وارث ہو گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1490B1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک یہ حکم اجماعی ہے اور اس میں کچھ اختلاف نہیں ہے کہ مسلمان کافر کا کسی رشتہ کی وجہ سے وارث نہیں ہو سکتا، خواہ وہ رشتہ ناطے کا ہو یا ولاء کا یا قرابت کا، اور نہ کسی کو اس کی وراثت سے محروم کر سکتا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اسی طرح جو شخص میراث نہ پائے وہ دوسرے کو محروم نہیں کر سکتا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 1490B2]