امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جو آیت ہے: «﴿إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ﴾» یعنی: ”جب تم میں سے کسی کو موت آنے لگے اور مال چھوڑ جائے تو وصیت کرے والدین اور ناطے والوں کے واسطے۔“ یہ آیت منسوخ ہے آیاتِ میراث سے جن میں اللہ نے ہر ایک کا حصّہ مقرر کردیا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1472Q5]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک وارث کے واسطے وصیت درست نہیں ہے۔ مگر جب اور ورثاء اجازت دیں، اور اگر بعض ورثاء اجازت دیں اور بعض نہ دیں تو جو اجازت دیں گے ان کے حصّے میں سے وصیت ادا کی جائے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1472Q6]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص بیمار ہو وہ اپنے وارثوں سے اجازت چاہے تہائی سے زیادہ وصیت کرنے کی، اور وارث اجازت دیں اس بات کی کہ تہائی سے زیادہ کسی وارث کے لیے وصیت کرے، تو پھر ان وارثوں کو رجوع کا اختیار نہیں، اگر رجوع درست ہوتا تو ہر وارث یہی کیا کرتا، جب موصی مرجاتا تو مال وصیت آپ لے لیا کرتے، اور اس کی وصیت روک دیتے، البتہ اگر کوئی شخص صحت کی حالت میں اپنے وارثوں سے اجازت چاہے وارث کے واسطے وصیت کرنے کی، اور وہ اجازت دے دے تو اس سے رجوع کر سکتے ہیں، کیونکہ جب آدمی صحیح ہے تو اپنے کل مال میں اختیار رکھتا ہے، چاہے سب صدقہ دے چاہے سب کسی کے حوالے کردے، تو یہ اذن لینا لغو ہوا، اور وارثوں کا اذن دینا بھی اپنے وقت سے پیشتر ہوا، اس واسطے ان کو رجوع درست ہے، بلکہ اذن لینا اس وقت درست ہے جب وہ اپنے مال میں اختیار نہ رکھتا ہو اور تہائی سے زیادہ صرف کرنے پر قادر نہ ہو، اس وقت وارثوں کو دو تہائی کا اختیار ہوگا، وہ اجازت بھی دے سکتے ہیں، اگر مریض نے اپنے وارث سے کہا: تو اپنا حصّہ میراث کا مجھے ہبہ کردے، اس نے ہبہ کردیا، لیکن مریض نے اس میں کچھ تصرف نہیں کیا، یوں ہی مر گیا، تو وہ حصّہ پھر اسی وارث کا ہو جائے گا، البتہ اگر میت یوں کہے ایک وارث سے کہ فلاں وارث بہت ضعیف ہے، تو بھی اپنا حصّہ اس کو ہبہ کردے، اور اگر وہ ہبہ کردے تو درست ہو جائے گا، اگر وارث نے اپنا حصّہ میراث میّت کو ہبہ کر دیا، اس نے کچھ اس میں سے کسی کو دلایا، کچھ بچ رہا، تو جو بچ رہا وہ اسی وارث کا ہو گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1472Q7]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے وصیت کی، بعد اس کے معلوم ہوا کہ اس نے اپنے ایک وارث کو کچھ دیا تھا جس پر اس نے قبضہ نہیں کیا، اور ورثاء نے اس کی اجازت سے انکار کیا، تو وہ ورثاء کا حق ہو جائے گا، اور کتاب اللہ کے موافق تقسیم ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1472Q8]