امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر کسی نے اپنا کپڑا رنگریز کو رنگنے کو دیا، اس نے رنگا، اب کپڑے والا یہ کہے: میں نے تجھ سے یہ رنگ نہیں کہا تھا، اور رنگریز کہے: تو نے یہی رنگ کہا تھا، تو رنگریز کا قول قسم سے مقبول ہوگا، ایسا ہی درزی کا بھی حکم ہے، اور سنار کا جب وہ حلف اٹھالیں، البتہ اگر ایسی بات کا دعویٰ کرتے ہوں جو بالکل عرف اور رواج کے خلاف ہو، تو اس کا قول مقبول نہ ہوگا، بلکہ کپڑے والے سے قسم لی جائے گی، اگر وہ قسم نہ کھائے گا تو کاریگر سے قسم لی جائے گی۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1452Q3]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ایک شخص نے اپنا کپڑا رنگریز کو دیا رنگنے کے واسطے، رنگریز نے وہ کپڑا دوسرے شخص کو پہننے کو دے دیا، تو رنگریز پر اس کا تاوان ہوگا اگر پہننے والے کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ کپڑا کسی اور کا ہے، اور جو معلوم ہو تو تاوان اسی پر ہوگا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الرَّهْنِ/حدیث: 1452Q4]