امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر عامل زمین کے مالک سے یہ شرط کر لے کہ کام کاج کے واسطے جو غلام پہلے مقرر تھے وہ میرے پاس بھی مقرر رکھنا، تو اس میں کچھ قباحت نہیں، کیونکہ اس میں عامل کی کچھ منفعت نہیں ہے، صرف اتنا فائدہ ہے کہ اس کے ہونے سے عامل کو محنت کم پڑے گی، اگر وہ نہ ہوتے تو محنت زیادہ پڑتی۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک مساقاۃ ان درختوں میں ہو کہ جن میں پانی چشموں سے آتا ہے، اور ایک مساقاة ان درختوں میں ہو کہ جہاں پانی بھر کر اونٹ پر لانا پڑتا ہے، دونوں برابر نہیں ہوسکتیں، اس لیے کہ ایک میں محنت زیادہ ہے اور دوسرے میں کم۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 1403Q1]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ عامل کو یہ نہیں پہنچتا کہ ان غلاموں سے اور کوئی کام لے، یا مالک سے اس کی شرط کر لے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 1403Q2]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ زمین کے مالک کو یہ درست نہیں کہ جو غلام پہلے سے باغ میں مقرر تھے ان میں سے کسی غلام کے نکال لینے کی شرط مقرر کرے، بلکہ اگر کسی غلام کو نکالنا چاہے تو مساقات کے اول نکال لے، اسی طرح اگر کسی کو شریک کرنا چاہے تو مساقات کے اول شریک کر لے، بعد اس کے مساقات کرے۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 1403Q3]
امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اگر باغ کے غلاموں میں سے کوئی مر جائے یا غائب ہو جائے تو باغ کے مالک کو دوسرا غلام اس کی جگہ پر دینا پڑے گا۔ [موطا امام مالك رواية يحييٰ/كِتَابُ الْمُسَاقَاةِ/حدیث: 1403Q4]